قومی خبریں

این ایچ آر سی نے خاتون قیدیوں اور ان کے بچوں کے انسانی حقوق کے تحفظ پر مشاورتی ہدایات جاری کیں

نئی دہلی، 28 اکتوبر (یواین آئی) قومی انسانی حقوق کمیشن (این ایچ آر سی) نے ‘خاتون قیدیوں اور ان کے بچوں کے انسانی حقوق کے تحفظ’ سے متعلق مشاورتی ہدایات جاری کی ہیں، جن میں خاتون قیدیوں اور ان کے بچوں کے حقوق اور ضروریات پر خصوصی توجہ دینے اور صنفی مساوات کو مدنظر رکھتے ہوئے حساس رویہ اپنانے پر زور دیا گیا ہے۔این ایچ آر سی نے بدھ کے روز بتایا کہ کمیشن نے نو مرکزی وزارتوں، تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں (یو ٹی) کے چیف سکریٹریوں/منتظمین اور پولیس ڈائریکٹر جنرلوں کو ‘خاتون قیدیوں اور ان کے بچوں کے انسانی حقوق کے تحفظ’ سے متعلق مشاورتی ہدایات جاری کی ہیں۔ کمیشن نے اس بات پر زور دیا ہے کہ قیدیوں، بالخصوص خاتون قیدیوں اور ان کے بچوں کے حقوق اور ضروریات پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے، کیونکہ یہ سب سے زیادہ حساس گروہوں میں شامل ہیں۔ اس کے ساتھ صنفی مساوات کو مدنظر رکھتے ہوئے حساس رویہ اپنانا بھی ضروری ہے۔ حراست کے دوران حفاظتی اقدامات کے علاوہ ان ہدایات میں جیلوں میں انسانی اور مناسب حالات، ماں اور بچے کی صحت کی خاطر خواہ دیکھ بھال، انصاف تک رسائی، خاندانی تعلقات کا تحفظ، بچوں کے بہترین مفادات کی حفاظت، بازآبادکاری اور معاشرے میں دوبارہ انضمام کے لیے بامعنی مواقع فراہم کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ان مشاورتی ہدایات میں کارروائی کے لیے 10 وسیع شعبوں پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ ان میں جیل میں داخلے سے قبل کے مراحل، گرفتاری اور جیل کے نظام میں داخلہ، داخلے کا ریکارڈ، بچوں کا ڈیٹا بیس اور دستاویزات، صحت، طبی دیکھ بھال اور ذہنی صحت کی خدمات، خاتون قیدیوں کے رہنے کے حالات، صفائی ستھرائی، فلاح و بہبود اور حساسیت پیدا کرنے کے اقدامات، قیدیوں کے ساتھ رہنے والے یا ان سے الگ رہنے والے بچے، رابطے، ملاقات اور اہل خانہ سے تعلقات، جیل انتظامیہ، قانونی امداد اور انصاف تک رسائی، خاتون قیدیوں کو عدالت میں پیشی کے دوران خصوصی سہولتیں اور فلاحی اقدامات، بازآبادکاری، رہائی کے بعد معاونت اور معاشرے میں دوبارہ انضمام کے علاوہ غیر ملکی شہری قیدی بھی شامل ہیں۔قومی انسانی حقوق کمیشن نے تمام متعلقہ حکام سے اپیل کی ہے کہ وہ مشاورتی ہدایات میں دی گئی سفارشات پر عمل درآمد کریں اور دو ماہ کے اندر کارروائی کی رپورٹ (اے ٹی آر) پیش کریں، تاکہ کمیشن کو پیش رفت سے آگاہ رکھا جا سکے۔