عالمی خبریں

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج پر انسانی حقوق کمیشن کی شدید تنقید  

لاہور۔ 28؍ اکتوبر۔ ایم این این۔ انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان (HRCP) نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی شدید مخالفت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ وفاقی حکومت کے اقدامات جمہوری اداروں، بنیادی انسانی حقوق اور سیاسی آزادیوں کے لیے سنگین خطرہ بن رہے ہیں۔کمیشن نے اپنے تازہ بیان میں کہا کہ ملک کے واحد اپوزیشن کے زیرِ اقتدار صوبے میں منتخب حکومت کو معطل کرنا اور منتخب وزیراعلیٰ کو حراست میں رکھنا جمہوری اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ایچ آر سی پی کے مطابق خیبر پختونخوا میں سیاسی کارکنوں کی گرفتاریوں، عوامی اجتماعات پر پابندیوں اور سکیورٹی کارروائیوں کے نتیجے میں شہری آزادیوں کو مسلسل محدود کیا جا رہا ہے۔ پنجاب میں پاکستان تحریک انصاف کی خواتین کارکنوں سمیت منتخب نمائندوں کی گرفتاریوں کو بھی سیاسی سرگرمیوں کے خلاف وسیع کارروائی کا حصہ قرار دیا گیا۔کمیشن نے دہشت گردی اور عسکریت پسندی کی مذمت کرتے ہوئے واضح کیا کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کو اجتماعی سزا، طاقت کے غیر ضروری استعمال یا شہریوں کے بنیادی حقوق کی پامالی کا جواز نہیں بنایا جا سکتا۔بیان میں کہا گیا کہ فوجی کارروائیوں کے دوران عام شہریوں کی ہلاکتوں اور بڑے پیمانے پر نقل مکانی کے خدشات موجود ہیں، جبکہ محض فوجی طاقت کے ذریعے پائیدار امن قائم نہیں کیا جا سکتا۔انسانی حقوق کمیشن نے شمالی اور جنوبی وزیرستان، بنوں اور میران شاہ میں کرفیو اور فوجی تعیناتی کے باعث معمولاتِ زندگی متاثر ہونے پر بھی تشویش ظاہر کی۔ کمیشن نے مطالبہ کیا کہ حکومت شہری ہلاکتوں کی تفصیلات جاری کرے اور بے گھر ہونے والے خاندانوں کو فوری امداد فراہم کرے۔کمیشن کے مطابق پشاور، سوات اور خیبر میں تحریک انصاف کے کارکنوں کے گھروں پر پولیس چھاپوں اور عوامی اجتماعات کو منتشر کرنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔موبائل فون اور انٹرنیٹ سروسز کی ابتدائی بندش پر تنقید کرتے ہوئے کمیشن نے کہا کہ رابطوں کی معطلی سے شہریوں کی تعلیم، روزگار، معلومات تک رسائی اور روزمرہ زندگی بری طرح متاثر ہوئی۔ایچ آر سی پی نے مطالبہ کیا کہ غیر قانونی طور پر حراست میں لیے گئے افراد کو فوری رہا کیا جائے، گرفتار شہریوں کو وکلا اور اہل خانہ تک رسائی دی جائے اور انہیں مقررہ قانونی مدت میں عدالتوں کے سامنے پیش کیا جائے۔