افغانستان میں بیشتر منشیات پاکستان سے اسمگل ہو رہی ہیں۔ طالبان کا الزام
کابل۔ 28؍ اکتوبر۔ ایم این این۔ افغانستان کی طالبان حکومت نے پاکستان پر منشیات کی بڑے پیمانے پر اسمگلنگ کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں داخل ہونے والی زیادہ تر روایتی اور مصنوعی منشیات پاکستانی سرحد سے افغانستان پہنچ رہی ہیں۔طالبان کی وزارت داخلہ کے ترجمان عبدالمتین قانع نے کہا کہ پاکستانی حکام کو منشیات کی اسمگلنگ روکنے کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہئیں۔ انہوں نے عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ پاکستان پر دباؤ ڈالے تاکہ افغانستان اور دیگر ایشیائی ممالک میں منشیات کی غیر قانونی ترسیل کو روکا جا سکے۔قانع کے مطابق طالبان فورسز نے سرحدی علاقوں میں منشیات کی اسمگلنگ روکنے کے لیے کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ افغانستان میں منشیات کی کاشت تقریباً ختم ہو چکی ہے اور طالبان انتظامیہ اس غیر قانونی کاروبار کے خلاف اپنی ذمہ داریاں پوری کر رہی ہے۔یہ الزامات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں پوست کی کاشت میں اضافے کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ بعض رپورٹس کے مطابق افغانستان میں طالبان کی جانب سے پوست کی کاشت پر پابندی کے بعد بلوچستان کے کچھ علاقے اس فصل کی کاشت کے نئے مراکز بنتے جا رہے ہیں۔اقوام متحدہ کے اعدادوشمار کے مطابق افغانستان میں افیون کی پیداوار میں 95 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ جولائی 2026 کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2022 تک افغانستان دنیا کی تقریباً 80 فیصد غیر قانونی افیون پیدا کرتا تھا، لیکن طالبان کی پابندیوں کے بعد پیداوار میں نمایاں کمی آئی ہے۔رپورٹ کے مطابق افغانستان میں پوست کی کاشت کا رقبہ 2022 میں تقریباً 2 لاکھ 32 ہزار ہیکٹر تھا، جو 2025 میں گھٹ کر صرف 10 ہزار 200 ہیکٹر رہ گیا۔ اسی عرصے میں افیون کی پیداوار 6 ہزار 200 ٹن سے کم ہو کر تقریباً 296 ٹن رہ گئی۔تاہم اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں پہلے سے موجود افیون کے ذخائر 2026 کے اختتام تک برقرار رہ سکتے ہیں، جس سے منشیات کی غیر قانونی تجارت مکمل طور پر ختم ہونے کا امکان نہیں ہے۔پاکستانی حکام نے طالبان کی وزارت داخلہ کے تازہ الزامات پر تاحال کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔
