بنگلہ دیش کے مدارس میں بچوں کے جنسی استحصال کے واقعات – شکایت کرنے والے خاندان بھی دھمکیوں اور مقدمات کا شکار
ڈھاکہ۔ 28؍ اکتوبر۔ ایم این این۔ بنگلہ دیش کے مختلف مدارس میں بچوں کے مبینہ جنسی استحصال کے واقعات نے سنگین خدشات پیدا کر دیے ہیں۔ متاثرہ بچوں کے خاندانوں کو انصاف کی جدوجہد کے دوران جان سے مارنے کی دھمکیوں، تشدد اور جوابی مقدمات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جس سے ملک میں بچوں کے تحفظ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔غازی پور کے علاقے ٹونگی میں ایک سات سالہ بچی کے والد نے مدرسے کے استاد کے خلاف اپنی بیٹی کو مبینہ طور پر جنسی ہراسانی کا نشانہ بنانے کی شکایت درج کرائی۔ ملزم استاد کو گرفتار کرکے جیل بھیج دیا گیا ہے، جبکہ پولیس کے ابتدائی نتائج بچی کے الزامات کی تائید کرتے ہیں۔تاہم مدرسے کی انتظامیہ نے بچی کے والد اور دیگر افراد کے خلاف عملے پر حملے، توڑ پھوڑ اور 17 لاکھ ٹکہ چوری کرنے کا مقدمہ درج کرا دیا۔ والد نے توڑ پھوڑ اور چوری کے الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں سوشل میڈیا سمیت مختلف ذرائع سے جان سے مارنے کی دھمکیاں مل رہی ہیں۔پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر شواہد جمع کیے ہیں، گواہوں کے بیانات لیے ہیں اور بچی کا بیان مجسٹریٹ کے سامنے ریکارڈ کرایا ہے۔ تاہم تحقیقات ابھی جاری ہیں اور الزامات پر کوئی حتمی عدالتی فیصلہ نہیں ہوا۔تشویشناک بات یہ ہے کہ صرف 16 دنوں کے دوران بنگلہ دیش کے مدارس میں بچوں کے جنسی استحصال کے چھ مبینہ واقعات سامنے آئے ہیں۔ بعض متاثرہ بچوں کی عمریں محض سات سال بتائی گئی ہیں۔ساور میں بھی ایک 13 سالہ طالبہ کے دادا نے مدرسے کے مالک اور ہیڈ ٹیچر کے خلاف بچی سے مبینہ زیادتی کا مقدمہ درج کرایا۔ اس کے بعد مدرسے کے مالک کے بیٹے نے 21 افراد کے خلاف لوٹ مار اور توڑ پھوڑ کی شکایت درج کرائی، جن میں متاثرہ بچی کے دادا بھی شامل تھے۔پولیس کے مطابق مدرسے کی انتظامیہ کو دادا کا نام مقدمے میں شامل نہ کرنے کا مشورہ دیا گیا تھا، تاہم اس کے باوجود انہیں نامزد کیا گیا۔ پولیس نے یقین دہانی کرائی ہے کہ تحقیقات کے بغیر انہیں گرفتار نہیں کیا جائے گا۔نوکھالی میں ایک اور واقعے میں 14 سالہ طالبہ کے والد نے مدرسے کے سپرنٹنڈنٹ کے خلاف مبینہ زیادتی کی کوشش کا مقدمہ درج کرایا، جس کے بعد ان کے خاندان پر حملہ کیا گیا۔ ویڈیو شواہد میں حملہ آوروں کو گھر میں توڑ پھوڑ کرتے اور مقدمہ واپس لینے کا مطالبہ کرتے دیکھا گیا۔
