پاکستان میں ہندوؤں کی آبادی 14.6 فیصد سے گھٹ کر 2 فیصد رہ گئی – برطانوی پارلیمنٹ میں مذہبی ظلم و ستم کی رپورٹ پیش
لندن۔۔ ایم این این۔ پاکستان میں ہندو اقلیت کے خلاف مبینہ مذہبی ظلم و ستم، جبری تبدیلیٔ مذہب، اغوا اور امتیازی قوانین کے حوالے سے ایک تفصیلی رپورٹ برطانوی پارلیمنٹ کے ارکان کے سامنے پیش کی گئی ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان میں ہندوؤں کی آبادی کا تناسب تقسیم ہند سے قبل 14.6 فیصد تھا، جو اب تقریباً 2 فیصد رہ گیا ہے۔رپورٹ میں 1941 کی مردم شماری اور پاکستان کی 2023 کی مردم شماری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ہندو برادری کو کئی دہائیوں سے تشدد، مذہبی امتیاز، زمینوں پر قبضے اور جبری نقل مکانی جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ تاہم ان اعداد و شمار کا تعلق مختلف ادوار سے ہے اور آبادی کے تناسب میں کمی کو صرف مذہبی ظلم و ستم کا نتیجہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہر سال اندازاً ایک ہزار ہندو اور عیسائی خواتین اور لڑکیاں اغوا، جبری تبدیلیٔ مذہب اور زبردستی شادیوں کا شکار ہوتی ہیں۔ متاثرین میں بڑی تعداد کم عمر لڑکیوں کی بتائی گئی ہے، خصوصاً صوبہ سندھ میں ایسے واقعات پر تشویش ظاہر کی گئی ہے۔رپورٹ میں پاکستانی آئین کی دفعات 41 اور 91 پر بھی سوال اٹھائے گئے ہیں، جن کے تحت صدر اور وزیراعظم کے عہدوں کے لیے مسلمان ہونا ضروری ہے۔ اسے مذہبی اقلیتوں کے لیے مساوی سیاسی حقوق کی راہ میں رکاوٹ قرار دیا گیا ہے۔اس کے علاوہ ہندو عبادت گاہوں پر حملوں، مذہبی شناخت کی بنیاد پر امتیاز اور تقسیم ہند کے بعد ہندو خاندانوں کی آبائی جائیدادوں سے محرومی کے واقعات کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔برطانوی رکن پارلیمنٹ باب بلیک مین نے 29 اکتوبر کو دارالعوام میں پاکستان کی مذہبی اقلیتوں کی صورتحال پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ واضح کرے کہ ان برادریوں کے تحفظ کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں۔برطانوی حکومت کی جانب سے جواب میں یقین دہانی کرائی گئی کہ ان خدشات کو وزارت خارجہ کے سامنے اٹھایا جائے گا۔رپورٹ میں برطانیہ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ پاکستان کو دی جانے والی مالی امداد کو مذہبی اقلیتوں کے تحفظ اور انسانی حقوق میں بہتری سے مشروط کیا جائے۔ اس کے ساتھ اقلیتوں کی صورتحال پر ہر چھ ماہ بعد رپورٹ جاری کرنے، متاثرین کے لیے محفوظ پناہ کے راستے فراہم کرنے اور جبری مذہبی تبدیلی کے واقعات کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر مذہبی اقلیتوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو پاکستان میں ہندوؤں اور دیگر غیر مسلم برادریوں کو مزید سماجی اور معاشی عدم تحفظ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
