بہار نامہ

بہار میں سڑک اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں مسلسل تعاون کیلئے وزیر اعلیٰ نے وزیر اعظم  کا شکریہ ادا کیا

پٹنہ،  : وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے  اپنے دہلی دورہ کے دوران مرکزی سڑک ٹرانسپورٹ و شاہراہ کے وزیر نتن گڈکری کے ساتھ اعلیٰ سطحی میٹنگ کی۔ مرکزی وزیر کی رہائش گاہ پر منعقد اس میٹنگ میں وزیر اعلیٰ نے بہار میں قومی شاہراہوں اور ایکسپریس وے کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور زیر التوا منصوبوں کو جلد شروع کرنے کے سلسلے میں تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ وزیر اعلیٰ نے بہار میں سڑکوں اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے مسلسل تعاون پر وزیر اعظم محترم نریندر مودی اور مرکزی سڑک ٹرانسپورٹ و شاہر ہ کے وزیر جناب نتن گڈکری کا شکریہ ادا کیا۔
میٹنگ کے دوران وزیر اعلیٰ نے ریاست میں رابطہ سڑکوں کے نظام کو نئی سمت دینے والے اہم سڑک منصوبوں کو جلد منظوری دینے کی درخواست کی۔ وزیر اعلیٰ نے مرکزی وزیر کو بتایا کہ بہار میں 49,751 کروڑ روپے کی لاگت اور تقریباً 330 کلومیٹر مجموعی لمبائی کے چار اہم منصوبوں کومرکزی حکومت ہند کی پی پی پی اے سی (عوامی و نجی شراکت داری کی تشخیصی کمیٹی) کے ذریعہ منظوری مل چکی ہے۔ ریاست میں لاجسٹکس کی لاگت کم کرنے اور ٹریفک کو آسان بنانے کے نقط نظر سے یہ منصوبے انتہائی اہم ہیں۔ فی الحال یہ منصوبے سی سی ای اے (کابینہ کی اقتصادی امور کی کمیٹی) کی حتمی منظوری کے لیے زیر غور ہیں۔ان پروجیکٹوں  کے تحت 1976.77 کروڑ روپے کی لاگت سے این ایچ-727 اے اے (گنڈک ندی پر 2 لین پل )، بہار کے منوا پل(بتیا) کو اتر پردیش کے تیواری پٹی(سیوراہی) سے جوڑنے والے پل اور رابطہ سڑک کی تعمیر 8455.86 کروڑ روپے کی لاگت والے سریست آباد-دیدار گنج اور انیس آباد-دیدار گنج سیکشن میں 6 لین ایلیویٹڈ اور سروس روڈ کی تعمیر ہائبرڈ اینیوٹی موڈ(ایچ اے ایم موڈ)،31987.11 کروڑ روپے کی لاگت سے پٹنہ-پورنیہ 4 لین گرین فیلڈ ایکسپریس وے (این ایچ-09، HAM موڈ) کی تعمیر اور 7,331.40 کروڑ روپے کی لاگت سے وارانسی-رانچی-کولکاتا 6 لین گرین فیلڈ ہائی وے (کونکی گاؤں سے لیرووا گاؤں تک، HAM موڈ) کی تعمیر شامل ہے۔ملاقات کے دوران وزیر اعلیٰ نے مرکزی وزیر سے گورکھپور-سلی گڑی ایکسپریس وے کے بہار والے حصے کو قومی ایکسپریس وے کے طور پر جلد از جلد نوٹیفائی کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ریاستی حکومت تعمیر سے قبل کے کاموں میں این ایچ اے آئی کو مکمل تعاون فراہم کر رہی ہے اور متعلقہ اضلاع میں زمین کے حصول (3A نوٹیفکیشن) کا کام آخری مراحل میں ہے۔ اس ایکسپریس وے کی تعمیر سے شمالی بہار کی ندیوں پر نئے پل تعمیر ہوں گے، جس سے ریاست میں ٹریفک اور آمد و رفت کے نظام میں بڑی تبدیلی آئے گی۔وزیر اعلیٰ نے مرکزی وزیر کو بتایا کہ رکسول-ہلدیہ ایکسپریس وے کے ترمیم شدہ روٹ کے تعین کو منظوری ملنے کے بعد زمین کے حصول کی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایکسپریس وے نیپال کے ساتھ تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور ہلدیہ بندرگاہ سے بہار کا براہ راست رابطہ قائم کرنے کے ساتھ ساتھ اسٹریٹجک نقط نظر سے بھی انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے اسے جلد نوٹیفائی کرکے منظوری دینے کی درخواست کی۔وزیر اعلیٰ نے مظفرپور-برونی (این ایچ122) کے چار لین سڑک کی تعمیر کے سلسلے میں بھی مرکزی وزیر برائے سڑک ٹرانسپورٹ و شاہراہ کو تفصیلات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے مظفرپور-برونی (این ایچ122) کو چار لین میں تبدیل کرنے کے کام کی رفتار تیز کرنے کی درخواست کی، جس کی ڈی پی آر این ایچ اے آئی تیار کر چکا ہے۔وزیر اعلیٰ نے مرکزی وزیر کو بتایا کہ بہار میں تقریباً 2,329 کلومیٹر قومی شاہراہوں کی دیکھ بھال اور ترقی کی ذمہ داری ریاست کے محکمہ تعمیرات سڑک کو سونپی گئی ہے۔ محکمہ کی جانب سے 323 کلومیٹر لمبائی اور 13,015 کروڑ روپے کی لاگت کے 6 قومی شاہراہوں کے منصوبوں کی تفصیلی پروجیکٹ رپورٹ (DPR) تیار کرکے مرکز کو بھیجی گئی ہے۔(جس میں وکرم شیلا پل کا رابطہ سڑک اور مشرکھ-چکیا-بھٹھا موڑ کو چار لین میں چوڑا کرنا  شامل ہیں) انہوں نے ان منصوبوں کو جلد تکنیکی اور مالی منظوری دینے کی درخواست کی۔میٹنگ میں بہار میں سڑکوں کے نیٹ ورک کی توسیع، بہتر رابطہ نظام، پلوں اور ایکسپریس وے کی تعمیر اور سیلاب سے تحفظ سے متعلق بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے مختلف پہلوؤں پر بھی مثبت تبادلہ خیال ہوا۔ ان منصوبوں کے نفاذ سے ریاست میں آمد و رفت آسان ہونے کے ساتھ ساتھ اقتصادی اور صنعتی سرگرمیوں کو بھی رفتار ملے گی۔