بدعنوانی کے خاتمے کے لیے دیانت داری اور جرأت ضروری – اردو یونیورسٹی میں وجیلنس بیداری لیکچر سے شاہنواز الرحمن، آئی آر ایس کا خطاب
حیدرآباد(پریس نوٹ) بدعنوانی کا خاتمہ صرف انتظامی مشینری کی ذمہ داری نہیں بلکہ اس کے لیے اداروں اور افراد کی مشترکہ اور جامع کوششیں ضروری ہیں۔ ان خیالات کا اظہار جناب شاہنواز الرحمن، آئی آر ایس، کمشنر آف انکم ٹیکس، حیدرآباد نے مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں ”خوشحالی کے لیے دیانتداری“ (Probity for Prosperity) کے موضوع پر خصوصی توسیعی لیکچر دیتے ہوئے کیا۔یہ پروگرام وجیلنس بیداری ہفتہ (Vigilance Awareness Week-2026) کے سلسلے میں منعقد کیا گیا۔ اس کا اہتمام ہفتہ 26 اکتوبر تا یکم نومبر 2026 کیاگیا۔
مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے جناب شاہنواز الرحمن نے بدعنوانی کے پس منظر میں کارفرما انفرادی رویّوں اور طرزِ عمل پر روشنی ڈالی اور انسدادی نگرانی (Preventive Vigilance) کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ دیانت داری کے لیے مضبوط اخلاقی کردار اور اصول پسندی ضروری ہے۔ انہوں نے شرکاءپر زور دیا کہ وہ کسی بھی غلط عمل یا بدعنوانی کے خلاف آواز بلند کریں۔ ان کے مطابق اپنے ضمیر کے سامنے سچا رہنا اور اپنے اصولوں پر عمل کرنے کی جرا ¿ت رکھنا بدعنوانی کے خاتمے کے لیے بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔
پروفیسر سید عین الحسن، وائس چانسلر، مانو نے یونیورسٹی کے عہدیداروں، اساتذہ، غیر تدریسی عملے اور طلبہ کو دیانت داری کا حلف دلایا اور صدارتی خطاب کیا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ایمانداری اور دیانت داری کے عہد کا اظہار ہماری روزمرہ زندگی اور عملی کردار میں بھی ہونا چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یونیورسٹی میں تعلیمی دیانت داری (Academic Integrity) کو خصوصی اہمیت حاصل ہے، بالخصوص تعلیم، تحقیق، امتحانات اور فرائض کی انجام دہی میں اس کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
یونیورسٹی کے شفاف طرزِ کار کے عزم کو اجاگر کرتے ہوئے وائس چانسلر نے معلومات کی عام دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے اختیار کیے گئے مختلف اقدامات کا ذکر کیا۔ انہوں نے داخلی اور خارجی آڈٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان میں کوئی خامی سامنے نہیں آئی، جو یونیورسٹی کے شفافیت اور جواب دہی کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
پروفیسر اشتیاق احمد، رجسٹرار، مانو نے بحیثیت مہمانِ اعزازی شرکت کی اور استقبالیہ خطاب پیش کیا۔ انہوں نے یونیورسٹی کے انتظامی امور میں دیانت داری، شفافیت اور جواب دہی کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے واضح اور منصفانہ طریقہ ¿ کار، قواعد کے یکساں نفاذ، بروقت خدمات کی فراہمی اور عوامی وسائل کے ذمہ دارانہ استعمال پر زور دیا۔ پروفیسر محمد عبدالعظیم، پراکٹر، مانو نے بھی پروگرام میں شرکت کی۔
ڈاکٹر گیتا، چیف وجیلنس آفیسر نے وجیلنس بیداری ہفتہ 2026 کی سرگرمیوں پر مشتمل رپورٹ پیش کی اور یونیورسٹی میں دیانت داری اور نگرانی کے شعور کو فروغ دینے کے لیے انجام دی گئی مختلف سرگرمیوں کی تفصیلات پیش کیں۔ وجیلنس بیداری ہفتے کے دوران مضمون نویسی اور ’جسٹ اے منٹ‘ (JAM) مقابلوں کا انعقاد بھی عمل میں آیا، جن کے ذریعے طلبہ کو ایمانداری، اخلاقی طرزِ عمل اور بدعنوانی کی روک تھام میں اجتماعی ذمہ داری کے حوالے سے اپنے خیالات کے اظہار کا موقع فراہم کیا گیا۔
پروگرام کے انعقاد میں ڈاکٹر گیتا؛ پروفیسر رفیع محمد، کوآرڈینیٹر؛ مسٹر متیالہ راؤ ڈاکٹر افروز ظہیرمسٹر حبیب احمد، کنوینر؛ اور محترمہ ببیتا راٹھوڑ، سیکشن آفیسر پر مشتمل کمیٹی نے اہم کردار ادا کیا۔
مسٹر متیالہ راؤ نے مہمانِ خصوصی کا تعارف پیش کیا، ڈاکٹر افروز ظہیرنے نظامت کے فرائض انجام دیے، جبکہ مسٹر حبیب احمد نے کلماتِ تشکر ادا کیے۔ پروگرام میں یونیورسٹی کے اساتذہ، غیر تدریسی عملے کے ارکان، ریسرچ اسکالرس اور طلبہ نے شرکت کی۔بدعنوانی کے خاتمے کے لیے دیانت داری اور جرأت ضروری
اردو یونیورسٹی میں وجیلنس بیداری لیکچر سے شاہنواز الرحمن، آئی آر ایس کا خطاب
حیدرآباد، 4 نومبر(پریس نوٹ) بدعنوانی کا خاتمہ صرف انتظامی مشینری کی ذمہ داری نہیں بلکہ اس کے لیے اداروں اور افراد کی مشترکہ اور جامع کوششیں ضروری ہیں۔ ان خیالات کا اظہار جناب شاہنواز الرحمن، آئی آر ایس، کمشنر آف انکم ٹیکس، حیدرآباد نے مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں ”خوشحالی کے لیے دیانتداری“ (Probity for Prosperity) کے موضوع پر خصوصی توسیعی لیکچر دیتے ہوئے کیا۔یہ پروگرام وجیلنس بیداری ہفتہ (Vigilance Awareness Week-2026) کے سلسلے میں منعقد کیا گیا۔ اس کا اہتمام ہفتہ 26 اکتوبر تا یکم نومبر 2026 کیاگیا۔
مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے جناب شاہنواز الرحمن نے بدعنوانی کے پس منظر میں کارفرما انفرادی رویّوں اور طرزِ عمل پر روشنی ڈالی اور انسدادی نگرانی (Preventive Vigilance) کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ دیانت داری کے لیے مضبوط اخلاقی کردار اور اصول پسندی ضروری ہے۔ انہوں نے شرکاءپر زور دیا کہ وہ کسی بھی غلط عمل یا بدعنوانی کے خلاف آواز بلند کریں۔ ان کے مطابق اپنے ضمیر کے سامنے سچا رہنا اور اپنے اصولوں پر عمل کرنے کی جرا ¿ت رکھنا بدعنوانی کے خاتمے کے لیے بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔
پروفیسر سید عین الحسن، وائس چانسلر، مانو نے یونیورسٹی کے عہدیداروں، اساتذہ، غیر تدریسی عملے اور طلبہ کو دیانت داری کا حلف دلایا اور صدارتی خطاب کیا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ایمانداری اور دیانت داری کے عہد کا اظہار ہماری روزمرہ زندگی اور عملی کردار میں بھی ہونا چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یونیورسٹی میں تعلیمی دیانت داری (Academic Integrity) کو خصوصی اہمیت حاصل ہے، بالخصوص تعلیم، تحقیق، امتحانات اور فرائض کی انجام دہی میں اس کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
یونیورسٹی کے شفاف طرزِ کار کے عزم کو اجاگر کرتے ہوئے وائس چانسلر نے معلومات کی عام دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے اختیار کیے گئے مختلف اقدامات کا ذکر کیا۔ انہوں نے داخلی اور خارجی آڈٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان میں کوئی خامی سامنے نہیں آئی، جو یونیورسٹی کے شفافیت اور جواب دہی کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
پروفیسر اشتیاق احمد، رجسٹرار، مانو نے بحیثیت مہمانِ اعزازی شرکت کی اور استقبالیہ خطاب پیش کیا۔ انہوں نے یونیورسٹی کے انتظامی امور میں دیانت داری، شفافیت اور جواب دہی کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے واضح اور منصفانہ طریقہ ¿ کار، قواعد کے یکساں نفاذ، بروقت خدمات کی فراہمی اور عوامی وسائل کے ذمہ دارانہ استعمال پر زور دیا۔ پروفیسر محمد عبدالعظیم، پراکٹر، مانو نے بھی پروگرام میں شرکت کی۔
ڈاکٹر گیتا، چیف وجیلنس آفیسر نے وجیلنس بیداری ہفتہ 2026 کی سرگرمیوں پر مشتمل رپورٹ پیش کی اور یونیورسٹی میں دیانت داری اور نگرانی کے شعور کو فروغ دینے کے لیے انجام دی گئی مختلف سرگرمیوں کی تفصیلات پیش کیں۔ وجیلنس بیداری ہفتے کے دوران مضمون نویسی اور ’جسٹ اے منٹ‘ (JAM) مقابلوں کا انعقاد بھی عمل میں آیا، جن کے ذریعے طلبہ کو ایمانداری، اخلاقی طرزِ عمل اور بدعنوانی کی روک تھام میں اجتماعی ذمہ داری کے حوالے سے اپنے خیالات کے اظہار کا موقع فراہم کیا گیا۔
پروگرام کے انعقاد میں ڈاکٹر گیتا؛ پروفیسر رفیع محمد، کوآرڈینیٹر؛ مسٹر متیالہ راؤ ڈاکٹر افروز ظہیرمسٹر حبیب احمد، کنوینر؛ اور محترمہ ببیتا راٹھوڑ، سیکشن آفیسر پر مشتمل کمیٹی نے اہم کردار ادا کیا۔
مسٹر متیالہ راؤ نے مہمانِ خصوصی کا تعارف پیش کیا، ڈاکٹر افروز ظہیرنے نظامت کے فرائض انجام دیے، جبکہ مسٹر حبیب احمد نے کلماتِ تشکر ادا کیے۔ پروگرام میں یونیورسٹی کے اساتذہ، غیر تدریسی عملے کے ارکان، ریسرچ اسکالرس اور طلبہ نے شرکت کی۔
