Featured

اگنی ویروں کے مستقل فوجی بننے کی راہ ہموار:مرکزی کابینہ کی میٹنگ میں تجویز منظور

نئی دہلی (یواین آئی) تینوں افواج میں چار سال قبل اگنی پتھ اسکیم کے تحت بھرتی کیے گئے اگنی ویروں کے پہلے بیچ کی مدت ملازمت ختم ہونے سے عین پہلے حکومت نے ایک بڑا فیصلہ کرتے ہوئے ان کے مستقل فوجی بننے کی راہ ہموار کر دی ہے۔ اس کے تحت میرٹ کی بنیاد پر مستقل فوجی بنائے جانے والے 25 فیصد اگنی ویروں کے علاوہ باقی 75 فیصد کو پہلے دو سال کی مدت ملازمت میں توسیع دی جائے گی اور اس کے بعد انہیں مستقل کیے جانے کا موقع ملے گا۔فوج ان 75 فیصد اگنی ویروں کو دو سال بعد مستقل فوجی بننے کی پیشکش کرے گی۔ ان 75 فیصد اہلکاروں کو ان کی خواہش اور افواج کے انتخابی معیار کی بنیاد پر مستقل فوجی بنایا جائے گا۔وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں بدھ کو یہاں ہوئی مرکزی کابینہ کی میٹنگ میں اس تجویز کو منظوری دی گئی۔چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل این ایس راجا سبرامنی نے میٹنگ کے بعد وزیر اطلاعات و نشریات اشونی ویشنو کی موجودگی میں یہ معلومات دی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے یہ فیصلہ افواج کی سفارش پر کیا ہے اور اگنی پتھ اسکیم اپنی بنیادی شکل میں جاری رہے گی۔جنرل سبرامنی نے کہا کہ یہ فیصلہ کافی غور و فکر کے بعد اگنی ویروں کی تربیت کے دوران ان کی شاندار کارکردگی، جسمانی فٹنس اور نظم و ضبط کو دیکھتے ہوئے کیا گیا ہے اور یہ اب تک کے تمام بیچوں پر لاگو ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اسکیم شروع کرتے وقت ہی واضح کیا گیا تھا کہ وقتاً فوقتاً اس کا جائزہ لیا جائے گا اور موجودہ فیصلہ اسی جائزے کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا، دلچسپی رکھنے والے 75 فیصد اگنی ویروں کے لیے دو سال کی مدت ملازمت میں توسیع کا فیصلہ اگنی ویروں کی امنگوں اور تنظیمی کارکردگی کے درمیان توازن قائم کرنے کے بنیادی مقصد کے تحت، غور و خوض، منطقی اور تفصیلی جائزے اور موصول ہونے والے تاثرات کے بعد کیا گیا ہے۔جنرل سبرامنی نے کہا کہ اگنی پتھ اسکیم 14 جون 2022 کو شروع کی گئی تھی اور اپنی بنیادی شکل میں اس کے تحت اگنی ویروں کی مدت ملازمت چار سال مقرر تھی۔ چار سال کے بعد ان میں سے صرف 25 فیصد کو میرٹ کی بنیاد پر مستقل فوجی کے طور پر افواج میں شامل کیا جانا تھا۔انہوں نے کہا کہ افواج کی سفارش پر حکومت نے اب تک کے تمام بیچوں کے اگنی ویروں کو مستقل کرنے کی راہ ہموار کر دی ہے۔ چار سال مکمل ہونے کے بعد 25 فیصد اگنی ویروں کو میرٹ کی بنیاد پر مستقل کیا جائے گا، جبکہ باقی 75 فیصد کو دو سال کی مدت ملازمت میں توسیع دی جائے گی۔ دو سال مکمل ہونے کے بعد ان 75 فیصد میں شامل تمام اگنی ویروں کو افواج میں مستقل فوجی بننے کا موقع دیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ انہیں ان کی خواہش اور افواج کے انتخابی معیار کی بنیاد پر مستقل فوجی بنایا جائے گا۔چیف آف ڈیفنس اسٹاف نے کہا کہ دو سال کی توسیعی مدت کے دوران اگنی ویروں کو پہلے سال 43 ہزار 500 روپے اور دوسرے سال 47 ہزار 500 روپے تنخواہ دی جائے گی۔ اس کے علاوہ انہیں 10 لاکھ 92 ہزار روپے کی سیوا ندھی بھی دی جائے گی۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میرٹ کی بنیاد پر مستقل کیے گئے 25 فیصد اگنی ویر، فوجی بننے کے بعد سینیئرٹی میں بعد میں مستقل کیے جانے والے 75 فیصد اگنی ویروں سے سینئر ہوں گے۔وزارت دفاع نے بتایا کہ اگنی پتھ اسکیم نافذ کیے جانے کے بعد ملک کے مختلف اضلاع میں اگنی ویروں کی بھرتی کا دائرہ وسیع ہوا ہے اور بھرتی کا عمل زیادہ معیاری اور شفاف رہا ہے۔ اس کے علاوہ اگنی ویروں کی جسمانی فٹنس، حوصلہ، تحریک، مسابقتی جذبہ اور نظم و ضبط اعلیٰ سطح کا ہے۔ دورانِ ملازمت انہیں ہنر، تکنیکی صلاحیت اور تعلیم کے شعبے میں آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کیے گئے ہیں۔ خواتین کو بھی دفاعی افواج کی مختلف شاخوں میں شامل کیا جا رہا ہے۔ایک سوال کے جواب میں چیف آف ڈیفنس اسٹاف نے واضح کیا کہ اگر کوئی اگنی ویر چھ سال کے بعد افواج میں مستقل فوجی بننے کے موقع سے فائدہ نہیں اٹھاتا تو اسے افواج سے باہر آنے کے بعد نیم فوجی دستوں میں بھرتی کے لیے ریزرویشن یا ترجیح سے متعلق حکومت کے پہلے کے فیصلوں کا فائدہ نہیں ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلے صرف ان اگنی ویروں کے لیے تھے جو چار سال کے بعد افواج سے باہر آتے تھے۔مسٹر ویشنو نے کہا کہ افواج اور حکومت دونوں کا ماننا ہے کہ اگنی پتھ اسکیم انتہائی فائدہ مند ثابت ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی اسکیموں میں اس سے پہلے بھی اصلاحات اور وقتاً فوقتاً جائزہ لیا جاتا رہا ہے اور اصلاحات و جائزے کا یہ عمل آئندہ بھی جاری رہے گا۔