گوکل ملک یونین کے چیئرمین کے انتخاب میں بی جے پی پر ‘ووٹ چوری’ کا راہل گاندھی کا الزام
نئی دہلی (یو این آئی) لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے بی جے پی پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ وہ کولہاپور ڈسٹرکٹ کوآپریٹیو ملک پروڈیوسرز یونین، جسے عام طور پر ‘گوکل ڈیری’ کے نام سے جانا جاتا ہے، کے چیئرمین کے انتخاب سے متعلق جاری تنازع میں ووٹوں کی چوری اور عوامی فیصلے میں ردوبدل کی کوشش کر رہی ہے۔
دودھ یونین کے گورننگ بورڈ کی تشکیل کو لے کر پیدا ہونے والا تنازع، جو کولہاپور ضلع کی معیشت اور علاقائی سیاست کا ایک اہم حصہ ہے، ریاستی حکومت کی جانب سے بورڈ میں نامزدگی کے قواعد تبدیل کرنے کے فیصلے کے بعد قومی سطح پر پہنچ گیا ہے۔
راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر ایک سخت بیان میں الزام لگایا کہ دودھ پیدا کرنے والوں کی جانب سے انتخابات میں بی جے پی کے خلاف ووٹ ڈالنے کے بعد حکمراں جماعت نے کوآپریٹیو اداروں کے قواعد میں تبدیلی کردی۔
انہوں نے کہاکہ ”گوکل میں دودھ پیدا کرنے والوں نے بی جے پی کو شکست دی۔ اس کے بعد بی جے پی نے انتخابات کے بعد قواعد تبدیل کردیے، چار نئے ڈائریکٹروں کو شامل کرکے ارکان کی تعداد 12 سے بڑھا کر 16 کردی اور اکثریت اپنے حق میں کرلی۔”
راہل گاندھی نے مزید کہا کہ یہ دودھ پیدا کرنے والوں کے ووٹوں کی کھلی چوری اور عوامی فیصلے کو تبدیل کرنے کی کوشش ہے۔ ان کے بقول، بی جے پی اقتدار برقرار رکھنے کے لیے اس قدر بے چین ہے کہ ہر جگہ کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ دودھ پیدا کرنے والوں کے ووٹ چرانے والوں کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ کسان کبھی نہیں بھولتے۔
راہل گاندھی کی جانب سے اس معاملے کو قومی سطح پر اٹھائے جانے پر مہاراشٹر کانگریس کے سینئر رہنما ستج پاٹل نے ان کا شکریہ ادا کیا۔ پاٹل نے کہا کہ راہل گاندھی نے یونین سے وابستہ ساڑھے پانچ لاکھ سے زیادہ ڈیری کسانوں کے مفاد کی آواز اٹھائی ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ دودھ پیدا کرنے والوں کے انتخابی فیصلے کا احترام کیا جانا چاہیے۔ ساتھ ہی انہوں نے خبردار کیا کہ اپوزیشن ریاستی حکومت کی مداخلت کے خلاف عدالتوں میں بھی لڑے گی اور سڑکوں پر عوامی احتجاج بھی کرے گی۔
