جماعت اسلامی ہند کاآئندہ اسمبلی انتخابات سے قبل ایس آئی آر اور ووٹر لسٹ سے متعلق تمام مسائل کو حل کرنے کا مطالبہ
نئی دہلی: جماعت اسلامی ہند نے ایس آئی آر کی کارروائی کے بعد انتخابی فہرستوں میں سنگین بے ضابطگیوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ناقص انتخابی فہرستوں کی بنیاد پر آئندہ اسمبلی انتخابات منعقد نہیں ہونے چاہئے۔ جماعت کے مرکز میں منعقد ہو نے والی ماہانہ پریس کانفرنس میں سیاسی لیڈران اور اختلافِ رائے رکھنے والے افراد کو نشانہ بنانے، موسمِ سرما کی تیاریوں اور فضائی آلودگی پر قابو پانے کے سرکاری اقدامات پر بھی اظہار خیال کیا گیا۔
ایس آئی آر اور آئندہ اسمبلی انتخابات کے تعلق سے گفتگو کرتے ہوئے ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر)کے سکریٹری ندیم خان نے کہا کہ الیکشن کمیشن آف انڈیا کی دیانت داری اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے طرزِ عمل کے تعلق سے لوگوں میں سنگین قسم کے خدشات پائے جاتے ہیں۔ اگر اتر پردیش، پنجاب، اتراکھنڈ، گوا اور منی پور میں آئندہ اسمبلی انتخابات ان خدشات کو دور کئے بغیر ہی کرائے گئے تو یہ سابقہ انتخابات کی تاریخ دہرانے جیسا ہوگا، جن میں لاکھوں ووٹر اپنے حقِ رائے دہی سے محروم رہ گئے تھے اور ہزاروں فرضی ووٹروں کے نام انتخابی فہرستوں میں شامل کردیا گیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ اس ضمن میں اعداد و شمار نہایت حیران کن ہیں ۔ اطلاعات کے مطابق اتر پردیش، پنجاب، اتراکھنڈ، گوا اور منی پور میں خصوصی جامع نظرثانی سے قبل ووٹروں کی مجموعی تعداد تقریباً 18.71 کروڑ تھی، جو حتمی انتخابی فہرستوں میں گھٹ کر 16.43 کروڑ رہ گئی ہے۔ اس طرح تقریباً 2.29 کروڑ ووٹروں کی مجموعی کمی واقع ہوئی ہے، جو 12.2 فیصد کے لگ بھگ ہے۔اس کمی میں تقریباً 90 فیصد حصہ اتر پردیش کا ہے، جہاں ووٹروں کی تعداد میں تقریباً 2.04 کروڑ (13.24 فیصد) کی کمی درج کی گئی ہے۔ دیگر ریاستوں میں پنجاب میں تقریباً 14 لاکھ، اتراکھنڈ میں 8 لاکھ، منی پور میں 1.3 لاکھ اور گوا میں 1.27 لاکھ ووٹروں کی کمی رپورٹ ہوئی ہے۔
ندیم خان نے کہا کہ مختلف ریاستوں کی انتخابی فہرستوں سے بڑی تعداد میں ووٹروں کو بے دخل کئے جانے کے بعد اب ضروری ہو گیا ہے کہ ووٹر فہرستوں پر دیانت داری کے ساتھ نظر ثانی کی جائے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ آئندہ اسمبلی انتخابات سے پہلے کوئی بھی ووٹر اپنے حق رائے دہی سے محروم نہ رہ جائے۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ الیکشن کمیشن پر سے عوام کا بھروسا اٹھ چکا ہے۔ جب تک انتخابی عمل پر عوام کا اعتماد بحال نہیں ہوتا، آنے والے انتخابات کی ساکھ بری طرح متاثر رہے گی۔ عوام کی جانب سے ظاہر کئے جا رہے خدشات کو انتخابات کے اعلان سے قبل ایک یا دو ماہ کے اندر دور کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ چیف الیکشن کمشنر اس معاملے کی اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے فوری طور پر اپنے عہدے سے استعفی دیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایس آئی آر کی پوری کارروائی کا شفاف طریقے جائزہ لیا جائے، انتخابی فہرستوں سے خارج کئے گئے ووٹروں کے نام دوبارہ شامل کئے جائیں ، نئے ناموں کا اندراج کیا جائے اور شکایتوں پر کی گئی کارروائیوں کی تفصیلات شائع کی جائیں ۔ندیم خان نے کہا کہ اسمبلی انتخابات مقررہ وقت پر ہونے چاہئے، لیکن اس سے پہلے انتخابی فہرستوں سے متعلق تمام خدشات دور کئے جائیں اور عوام کو یہ یقین دہانی کرائی جائے کہ انتخابی عمل منصفانہ، شفاف اور سب کی شمولیت والا ہے۔
سیاسی لیڈران اور اختلاف رائے رکھنے والوں کو نشانہ بنائے جانے کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر پروفیسر سلیم انجینئر نے کہا کہ جماعت اسلامی ہند سیاسی انتقام کے لیے مقدمات اور تفتیشی ایجنسیوں کے استعمال کی سخت مذمت کرتی ہے۔ پُرامن اختلاف رائے کی حوصلہ شکنی سے جمہوریت کے ان بنیادی اصولوں کوسخت نقصان پہنچ رہا ہے جس کا مقصد ہے کہ قانون کا اطلاق سب پر یکساں اور منصفانہ طریقے سے ہونا چاہیے۔
پروفیسر سلیم انجینئر نے کہا کہ سینئر لیڈر اعظم خان کی گرفتاری کا معاملہ کئی سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔ ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کئے گئے ، انہیں طویل عرصے سے جیل میں رکھا گیا اور ان کی قائم کردہ محمد علی جوہر یونیورسٹی کو سرکاری کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ عدالت کی جانب سے ضمانت منظور کئے جانے کے بعد، جیل سے باہر نکلنے کے چند ہی منٹوں میں ای ڈی نے انہیں ایک دوسرے معاملے میں گرفتار کرلیا اور انہیں دوبارہ جیل میں ڈال دیا گیا۔اعظم خان کی گرفتاری کا معاملہ ایسے ہی سیاسی انتقامی کارروائیوں کی ایک طویل فہرست کا حصہ ہے، جن کے ذریعے برسرِ اقتدار افراد کو چیلنج کرنے والوں کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارا ماننا ہے کہ اس نوعیت کی کارروائیوں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جانا چاہیے، تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ تفتیشی اداروں کے اختیارات کو سیاسی مخالفت کچلنے یا اختلاف رائے کو خاموش کرنے کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔
موسم سرما کی تیاریوں اور فضائی آلودگی پر قابو پانے کے اقدامات کے تعلق سے پروفیسر سلیم انجینئر نے کہا کہ جماعت اسلامی ہند مرکزی اور ریاستی حکومتوں سے اپیل کرتی ہے کہ سردی سے عوام کو محفوظ رکھنے کے لیے بروقت اور منظم اقدامات کئے جائیں۔ اس کے لئے تیاریوں کا آغاز پہلے ہی ہوجانا چاہیے۔ حکومت کو چاہیے کہ رات میں قیام کے لیے رین بسیروں کی تعداد میں اضافہ کرے اور انہیں بنیادی سہولیات سے آراستہ کیا جائے، گرم کمبلوں اور کپڑوں کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے، گرم کھانوں کا انتظام اور زیادہ خطرات والے علاقوں میں موبائل طبی یونٹس قائم کی جائے۔
پروفیسر سلیم انجینئر نے کہا کہ جماعت اسلامی ہند اپنی کوششوں اور وابستہ تنظیموں کے ذریعے ملک بھر میں موسم سرما کے دوران امدادی سرگرمیاں انجام دیتی رہی ہے، جن میں ضرورت مندوں کو کمبلوں کی تقسیم اور دیگر امدادی سامان کی فراہمی شامل ہے۔ یہ امداد مذہب، ذات پات یا سماجی پس منظر کی تفریق کے بغیر فراہم کی جاتی ہے۔انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ مقامی سطح پر امدادی سرگرمیوں میں تعاون کریں اور اپنے محلوں میں رہنے والے بزرگوں، تنہا زندگی گزارنے والے افراد اور بے گھر لوگوں کا خیال رکھیں۔جماعت اسلامی ہند نے خطرناک فضائی آلودگی کی روک تھام کے لیے پیشگی اقدامات کرنے، تعمیراتی کاموں سے پیدا ہونے والی گردوغبار اور کچرا جلانے کے خلاف قوانین پر سختی سے عمل درآمد کرانے اور آلودگی سے متاثرہ علاقوں میں مؤثر اقدامات کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔انہوں نے کہا کہ اس بات کو یقینی بنایا جانا چاہیے کہ آلودگی کی سطح خطرناک حد تک پہنچنے سے پہلے عوام کو ضروری معلومات فراہم ہوں، آلودگی کی نگرانی کا مؤثر نظام موجود ہو ۔ بچوں، بزرگوں اور مختلف بیماریوں میں مبتلا افراد کے تحفظ کے لیے مناسب طبی و حفاظتی اقدامات کئے جائیں۔
