اداریہ ؍مضامین

آر ایس ایس: اثر و رسوخ بے پناہ، مگر جواب دہی سے گریز کیوں؟

دنیا بھر میں سنگھ کی ذیلی تنظیمیں رجسٹرڈ، ہندوستان میں خود آر ایس ایس شفافیت سے کیوں خوف زدہ ہے؟

اقتدار کی راہداریوں میں جس تنظیم کی آواز سب سے زیادہ سنی جاتی ہو، جس کے نظریات سرکاری پالیسیوں پر اثر انداز ہوتے ہوں، جس کے سیاسی اثر و رسوخ کا اعتراف خود حکمراں جماعت کرتی ہو، اور جس کی فکری رہنمائی میں ملک کی سیاست کے رخ متعین ہوتے ہوں، اس تنظیم کا اپنا کوئی واضح تنظیمی حساب کتاب نہ ہو، اس کی آمدنی اور عطیات کا کوئی قابلِ رسائی ریکارڈ نہ ہو اور اس کی ذمہ داریوں کا تعین بھی آسان نہ ہو، تو جمہوریت میں اس صورت حال کو معمول کا معاملہ کیسے قرار دیا جا سکتا ہے؟ یہ سوال آج راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے حوالے سے پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گیا ہے۔
دی وائر کے صحافی کنال پروہت کی تحقیقی رپورٹ نے اس سوال کو محض سیاسی الزام تراشی کے دائرے سے نکال کر دستاویزی حقائق کی روشنی میں کھڑا کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق سنگھ پریوار سے وابستہ بیرون ملک کی تقریباً 80 فیصد تنظیمیں اپنے اپنے ممالک میں رجسٹرڈ ہیں اور وہاں کے قوانین کے تحت اپنے مالیاتی ریکارڈ اور دیگر تفصیلات عام کرنے کی پابند ہیں، لیکن ان سب کی سرپرست تنظیم آر ایس ایس ہندوستان میں خود کو رجسٹرڈ کرانے اور اسی نوعیت کی جواب دہی قبول کرنے سے گریز کرتی ہے۔ آخر یہ دوہرا معیار کیوں؟
کنال پروہت نے ‘سیئنگ دی سنگھ’ نامی تحقیقی ڈیٹاسیٹ کی مدد سے سنگھ پریوار کے عالمی نیٹ ورک کا جائزہ لیا ہے۔ اس کے مطابق سنگھ سے وابستہ 38 ممالک میں 2502 تنظیمیں موجود ہیں۔ ان میں سے ہندوستان سے باہر تقریباً 80 فیصد تنظیمیں رجسٹرڈ ہیں۔ امریکہ میں سنگھ سے وابستہ 107 تنظیموں میں سے 97 رجسٹرڈ ہیں، جب کہ برطانیہ میں 26 میں سے 23 تنظیمیں قانونی طور پر رجسٹرڈ ہیں۔ اس کے برعکس ہندوستان میں سنگھ سے وابستہ 2240 تنظیموں میں 693 غیر رجسٹرڈ ہیں۔ رپورٹ کا یہ پہلو بھی قابلِ غور ہے کہ ان میں بجرنگ دل جیسی نمایاں تنظیم شامل ہے۔
یہ اعداد و شمار محض رجسٹریشن کی تکنیکی بحث نہیں ہیں بلکہ ایک بڑے سوال کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ اگر بیرون ملک سنگھ کی ذیلی تنظیمیں وہاں کے قوانین، مالیاتی نگرانی اور ٹیکس سے متعلق ضابطوں کی پابندی کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتیں تو ہندوستان میں ان کی سرپرست تنظیم کو شفافیت سے کیا پریشانی ہے؟ کیا ہندوستان کا قانون کسی طاقت ور نظریاتی تنظیم کے لیے جواب دہی کے تقاضوں سے مستثنیٰ ہونے کا راستہ فراہم کرتا ہے؟
یہاں ایک اور دلچسپ تضاد سامنے آتا ہے۔ گزشتہ برس یوم آزادی کے موقع پر وزیر اعظم نریندر مودی نے آر ایس ایس کو دنیا کی سب سے بڑی این جی او قرار دیا تھا۔ خود سنگھ کے اعداد و شمار کے مطابق اس کی شاخوں کی تعداد بڑھ کر 88 ہزار سے زیادہ ہو چکی ہے اور وہ ملک کے 55 ہزار سے زائد مقامات پر سرگرم ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر یہ واقعی ایک اتنی بڑی سماجی تنظیم ہے تو پھر اس کے مالیاتی نظام، عطیات، اثاثوں اور اخراجات کے بارے میں عام شہریوں کو جاننے کا حق کیوں نہیں ہونا چاہیے؟
آر ایس ایس کی طرف سے یہ دلیل دی جاتی رہی ہے کہ وہ اپنے ارکان سے گرو دکشنا حاصل کرتی ہے اور کسی بیرونی شخص سے چندہ نہیں لیتی، اس لیے اس پر رجسٹریشن کے وہ تقاضے لاگو نہیں ہوتے جو عام این جی اوز پر ہوتے ہیں۔ لیکن مالیاتی شفافیت کے ماہرین نے اس دلیل پر بھی سوال اٹھایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر تنظیم باہمی رکنیت کی بنیاد پر ٹیکس سے متعلق کسی رعایت کا دعویٰ کرتی ہے تو اسے اپنے ارکان اور آمدنی کے ذرائع کا ریکارڈ بھی پیش کرنا ہوگا۔ مزید یہ کہ اس کی سرگرمیاں محض اپنے ارکان تک محدود نہیں ہیں۔ رپورٹ کا ایک اور اہم پہلو مالیاتی لین دین سے متعلق ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ امریکہ اور دیگر ممالک میں رجسٹرڈ سنگھ سے وابستہ تنظیمیں اپنے مالیاتی گوشوارے عام کرتی ہیں، جب کہ بعض اداروں کے ذریعے ہندوستان میں سنگھ سے وابستہ تنظیموں تک رقوم پہنچنے کے شواہد اور سابقہ تحقیقات بھی سامنے آتی رہی ہیں۔ دہلی میں آر ایس ایس کے نئے ہیڈکوارٹر کی تعمیر کے لیے تقریباً 150 کروڑ روپے کی رقم ایک رجسٹرڈ ذیلی تنظیم کے ذریعے حاصل کیے جانے کا معاملہ بھی اسی تناظر میں اہم ہے۔ جب اتنے بڑے مالیاتی معاملات سامنے آتے ہیں تو یہ جاننا ضروری ہو جاتا ہے کہ عطیات کہاں سے آئے، کس ادارے کے ذریعے آئے اور ان کے استعمال کی نگرانی کس طرح ہوئی۔
اصل مسئلہ صرف مالیاتی شفافیت کا نہیں بلکہ سیاسی جواب دہی کا بھی ہے۔ آر ایس ایس خود کو غیر سیاسی تنظیم قرار دیتی ہے، لیکن بی جے پی کے ساتھ اس کے نظریاتی، تنظیمی اور عملی تعلقات کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں۔ حکومت کے کام کاج سے لے کر سیاسی حکمت عملی تک سنگھ کے مشوروں اور اثرات کی خبریں سامنے آتی رہتی ہیں۔ اگر کوئی تنظیم انتخابی سیاست پر اثر انداز ہوتی ہے، حکمراں جماعت کے نظریاتی رخ کو متعین کرتی ہے اور ملک کے سماجی و سیاسی ماحول میں فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے تو پھر اس کے مالیاتی اور تنظیمی معاملات کو سوالات سے بالاتر کیسے رکھا جا سکتا ہے؟
جمہوریت میں طاقت کے ساتھ جواب دہی بھی آتی ہے۔ یہ اصول کسی ایک سیاسی جماعت، مذہبی تنظیم یا نظریاتی گروہ کے لیے مخصوص نہیں ہو سکتا۔ اگر کسی مسلم تنظیم، عیسائی ادارے، سماجی تنظیم یا حکومت کے ناقد این جی او سے اس کے عطیات، ارکان اور اخراجات کی تفصیلات طلب کی جا سکتی ہیں تو آر ایس ایس کے معاملے میں مختلف پیمانہ کیوں اختیار کیا جائے؟ قانون کا اطلاق پسند اور ناپسند کی بنیاد پر نہیں بلکہ یکساں اصولوں کے تحت ہونا چاہیے۔ کرناٹک کے وزیر داخلہ پریانک کھرگے نے آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کو تنظیم کی رجسٹریشن کے لیے خط لکھا تھا۔ اس کے جواب میں بھاگوت نے یہ دلیل دی کہ بہت سی چیزیں رجسٹرڈ نہیں ہوتیں، حتیٰ کہ ہندو مذہب بھی رجسٹرڈ نہیں ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ایک مذہب اور ایک باقاعدہ تنظیم کو ایک ہی ترازو میں تولا جا سکتا ہے؟ مذہب کسی سرکاری رجسٹریشن کا محتاج نہیں، مگر جب کوئی تنظیم باقاعدہ ڈھانچے، ملک گیر سرگرمیوں، مالیاتی وسائل اور سیاسی اثرات کے ساتھ کام کرتی ہے تو اس کے لیے شفافیت کا سوال لازمی ہو جاتا ہے۔ یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ دی وائر نے آر ایس ایس کے ترجمان سنیل امبیکر سے اس رپورٹ کے سلسلے میں دو مرتبہ رابطہ کیا، لیکن کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ یہ خاموشی بذاتِ خود کسی الزام کا ثبوت نہیں، لیکن ایک ایسی تنظیم کے لیے وضاحت کا موقع ضرور تھا جو خود کو قومی زندگی کی سب سے بڑی سماجی قوت قرار دیتی ہے۔
آج ہندوستان کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ یہاں قانون سب کے لیے یکساں ہوگا یا طاقت ور تنظیموں کے لیے الگ راستے بنائے جاتے رہیں گے۔ اگر آر ایس ایس واقعی ایک سماجی اور ثقافتی تنظیم ہے تو اسے اپنے کردار، مالیاتی وسائل اور تنظیمی ڈھانچے کی شفافیت سے خوف زدہ نہیں ہونا چاہیے۔ اور اگر وہ ملک کی سیاست اور اقتدار کے نظام پر اثر انداز ہونے والی ایک بڑی قوت ہے تو پھر اس کی جواب دہی کا سوال مزید اہم ہو جاتا ہے۔
جمہوریت میں کوئی بھی ادارہ، تنظیم یا شخصیت قانون سے بڑی نہیں ہو سکتی۔ آخر یہ کیسا جمہوری نظام ہوگا جس میں حکومت سے سوال کرنے والوں سے تو حساب مانگا جائے، مگر حکومت پر اثر انداز ہونے والی تنظیم سے سوال کرنا بھی گویا جرم سمجھا جائے؟ آر ایس ایس کو یہ طے کرنا ہوگا کہ وہ شفافیت اور جواب دہی کے جمہوری اصولوں کو قبول کرے گی یا اپنی غیر رجسٹرڈ حیثیت کو طاقت اور اثر و رسوخ کے تحفظ کا ذریعہ بنائے رکھے گی۔
سوال آر ایس ایس کے وجود کا نہیں، اس کے احتساب کا ہے، سوال اس کی نظریاتی آزادی کا نہیں، قانون کے سامنے اس کی جواب دہی کا ہے۔ اور یہی وہ سوال ہے جس سے ہندوستان کی جمہوریت اب مزید آنکھیں نہیں چرا سکتی۔