امریکی انتخابات کے نتائج کے بعد نیتن یاہو بطور وزیرِاعظم اپنے عہدے پر برقرار نہیں رہ سکتے!
تل ابیب (یو این آئی) اسرائیلی اپوزیشن کے سیاست دانوں نے امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد، جن کے غیر حتمی نتائج کے مطابق ڈیموکریٹس نے کامیابی حاصل کی، اس بات پر زور دیا ہے کہ اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو مزید اپنے عہدے پر برقرار نہیں رہ سکتے۔
امریکی وسط مدتی انتخابات کے نتائج کو نیتن یاہو اور اسرائیل کی حمایت کے تناظر میں دیکھتے ہوئے، اسرائیلی اپوزیشن رہنماؤں نے نشاندہی کی کہ امریکہ میں اسرائیل کی حمایت انتخابی شکست کی ایک وجہ بن گئی ہے۔
اپوزیشن جماعت ”یَش عتید” کے رہنما اور سابق اسرائیلی وزیرِاعظم یائیر لاپید نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں امریکی انتخابی نتائج کے بعد کہا:”نیتن یاہو کے ساتھ قومی اتحاد کی حکومت بنانے کا امکان مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے۔'”
لاپید نے مزید کہا:”اسرائیل انہیں وزیرِاعظم کے عہدے پر برقرار رہنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔ یہ ہماری سلامتی، جمہوریت کو خطرے میں ڈالے گا اور بین الاقوامی سطح پر ہمیں تباہ کر دے گا۔”
دوسری جانب ڈیموکریٹس پارٹی کے رہنما یائیر گولان نے بھی اپنے ایکس اکاؤنٹ پر لکھا:”امریکہ میں سامنے آنے والے وسط مدتی انتخابات کے نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ نیتن یاہو ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز، دونوں کی نظر میں کس قدر نقصان دہ شخصیت بن چکے ہیں۔”
گولان نے کہا کہ ان کے پاس وقت ضائع کرنے کی گنجائش نہیں ہے اور انہیں ایک متبادل حکومت تشکیل دینی چاہیے۔
امریکی وسط مدتی انتخابات کے غیر حتمی نتائج کے مطابق ڈیموکریٹس نے سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان، دونوں میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں ریپبلکنز کو پیچھے چھوڑ دیا۔
