بہار نامہ

فقہ اسلامی میں علماء بہار کی خدمات پر دو روزہ قومی سیمینار کا شاندار افتتاح

مولانا انیس الرحمان قاسمی نے دینی ماحول میں عصری تعلیم کا مثالی نمونہ پیش کیا ہے: مولانا رابع حسنی ندوی،پھلواری شریف پٹنہ کی ابو الکلام ریسرچ فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام مغربی چمپارن میں دو روزہ قومی سیمینار کا انعقاد، چار اہم کتابوں کی رونمائی

—مغربی چمپارن، سماج نیوز سروس:ابو الکلام ریسرچ فاؤنڈیشن، پھلواری شریف پٹنہ کے زیر اہتمام ’’فقہ اسلامی میں علماء بہار کی خدمات‘‘ کے عنوان سے دو روزہ قومی سیمینار کا افتتاح کانفرنس ہال، شمس ٹیچرز ٹریننگ اسکول، کٹہری، ساٹھی، مغربی چمپارن میں ہوا۔ افتتاحی اجلاس میں ملک کی ممتاز علمی و دینی شخصیات کی موجودگی نے سیمینار کے وقار کو بڑھانے میں اہم رول ادا کیا ۔حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے افتتاحی اجلاس کی صدارت فرمائی ۔جبکہ اجلاس کا افتتاحی خطبہ مولانا انیس الرحمان قاسمی نے پیش کیا، اپنے مختصر صدارتی خطاب میں حضرت رابع حسنی ندوی نے  مولانا انیس الرحمان قاسمی کی تعلیمی اور علمی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اس کیمپس میں مولانا قاسم نانوتوی اور سر سید احمد خاں کے افکار کو یکجا کر کے مجسم کر دیا ہے۔ دینی ماحول میں عصری تعلیم کی ضرورت کا احساس مولانا انیس الرحمان قاسمی نے بروقت کیا اور اسی وجہ سے ان کی شخصیت قابل احترام ہے۔انہوں نے تعلیم کے مختلف شعبوں کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے اسلام کی تبلیغ و اشاعت کا سب سے مؤثر ذریعہ تعلیم کو قرار دیا۔ لفظ ’’سراج‘‘ کی تشریح کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک سورج سے دوسرا سورج اور ایک چاند سے دوسرا چاند وجود میں نہیں آتا، لیکن ایک چراغ سے سیکڑوں اور ہزاروں چراغ روشن کیے جا سکتے ہیں۔ یہی وہ امتیاز ہے جس کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب ﷺ کو قرآن میں ’’سراجاً منیراً‘‘ کے وصف سے یاد فرمایا۔حضرت رابع حسنی ندوی نے ابو الکلام ریسرچ فاؤنڈیشن کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ مولانا انیس الرحمان قاسمی کا یہ نہایت وقیع علمی کارنامہ ہے کہ وہ مسلسل علماء بہار کی فقہی خدمات کو مرتب کرکے کتابی شکل میں محفوظ کر رہے ہیں۔ ان کی یہ کوشش محض کتابوں کی اشاعت نہیں بلکہ ایک پورے علمی ورثے کو آئندہ نسلوں تک منتقل کرنے کی قابل قدر جدوجہد ہے۔افتتاحی اجلاس کی ایک اہم سرگرمی فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام شائع ہونے والی چار اہم کتابوں کی رونمائی تھی۔ ان میں پہلی کتاب ’’فتاویٰ علمائے ہند‘‘ کی ساٹھویں جلد ہے، جس کی اشاعت مولانا انیس الرحمان قاسمی کے اس طویل علمی و تحقیقی منصوبے کا حصہ ہے جو مسلسل آگے بڑھ رہا ہے۔ دوسری کتاب تقریباً ساڑھے چار سو صفحات پر مشتمل احادیث کا ایک جامع مجموعہ بعنوان منتخب احادیث ہے،اسے  بھی مولانا انیس الرحمان قاسمی نے مرتب کیا ہے۔تیسری کتاب حضرت امیر شریعت مولانا منت اللہ رحمانی کے فتاویٰ پر مشتمل فتاوی رحمانی ہے، جسے مولانا و مفتی سہیل احمد قاسمی نے مرتب کیا ہے۔ جب کہ چوتھی کتاب گزشتہ سیمینار میں پیش کیے گئے مقالات کا مجموعہ ہے، جس کا 71 صفحات پر مشتمل مقدمہ مولانا نافع قاسمی نے تحریر کیا ہے۔تقریب اجرا سے قبل جملہ کتابوں کا مفصل تعارف مولانا عمر عابدین صاحب نے فرمایا ۔اس اجلاس میں شریک اہم علما میں حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی ،مولانا انیس الرحمان قاسمی کے علاوہ مولانا سید امانت حسین ،مولانا ابوالکلام قاسمی شمسی ،مولانا ڈاکٹر محمد عالم قاسمی ،مولانا قاری بشیر احمد ،مولانا منور سلطان ندوی ،مولانا مفتی سجاد حسین قاسمی ،مولانا مفتی عمر عابدین قاسمی ،مولانا نافع عارفی ،مولانا شاہد ناصری ،کے علاوہ مولانا سید محمد عادل فریدی قاسمی نے پروگرام کا آغاز کرتے ہوئے مولانا ابوالکلام ریسرچ فاؤنڈیشن کی سرگرمیاں ،اور مولانا انیس الرحمان قاسمی کی فکری اور علمی سر گرمیوں پر مشتمل ایک مفصل رپورٹ پیش کی ۔اور پھر پروگرام کے ناظم مولانا نافع عارفی کو دعوت نظامت دی ۔افتتاحی اجلاس میں شریک اہم شخصیات نے مولانا انیس الرحمان قاسمی کی علمی، تحقیقی اور تعلیمی جدوجہد کو خراج تحسین پیش کیا اور اس عزم کو سراہا کہ انہوں نے علماء بہار کی فقہی و علمی خدمات کو منتشر اوراق سے نکال کر مستقل علمی سرمایہ بنانے کا بیڑا اٹھایا ہے۔مجموعی طور پر یہ اجلاس اس احساس کو تازہ کرنے والا ثابت ہوا کہ مولانا انیس الرحمان قاسمی کی کوششوں سے اس خطے کی علمی روایت ایک بار پھر منظر عام پر آ رہی ہے۔ ایسا محسوس ہوا جیسے وہ علمی چراغ، جسے کئی دہائیاں قبل سید شاہ یحییٰ منیری نے روشن کیا تھا، اب نئی نسل تک پہنچانے اور اس کی روشنی کو مزید پھیلانے کی ایک سنجیدہ کوشش کی جا رہی ہے۔سیمینار میں مقالہ خوانی کا سلسلہ جاری ہے جو 5 نومبر تک جاری رہیگا۔