عالمی خبریں

مصنوعی ذہانت میں بھاری سرمایہ کاری کے باوجود چین کی معیشت کو محدود فائدہ – کمزور داخلی طلب ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ۔ فچ ریٹنگز

عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی فچ ریٹنگز نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (AI) کے شعبے میں چین کی بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری کے باوجود ملکی معیشت کو فوری طور پر وسیع فوائد حاصل ہونے کے امکانات محدود ہیں۔ کمزور گھریلو طلب، صارفین کے اعتماد میں کمی اور نئی ٹیکنالوجی سے خاطر خواہ تجارتی منافع حاصل نہ ہونے جیسے عوامل چین کی اقتصادی ترقی میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔فچ ریٹنگز کی تازہ رپورٹ کے مطابق چین مصنوعی ذہانت کو اپنی اقتصادی ترقی کا ایک نیا محرک بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے سیمی کنڈکٹرز، کمپیوٹنگ انفراسٹرکچر، صنعتی آٹومیشن، بجلی کی پیداوار اور کاروباری سافٹ ویئر سمیت متعدد شعبوں میں سرمایہ کاری بڑھائی جا رہی ہے۔تاہم ایجنسی کا کہنا ہے کہ ان سرمایہ کاریوں سے پیداوار میں اضافے، کمپنیوں کی آمدنی بہتر ہونے اور مجموعی اقتصادی ترقی جیسے فوائد سامنے آنے میں وقت لگ سکتا ہے۔چینی حکومت اپنے ’اے آئی پلس‘ (AI+) منصوبے کے تحت مصنوعی ذہانت کو صنعتوں، خدمات، صارفین کی سرگرمیوں اور سرکاری شعبے میں وسیع پیمانے پر متعارف کرانے کی کوشش کر رہی ہے۔ لیکن فچ کے مطابق موجودہ سرمایہ کاری کا بڑا حصہ بنیادی ڈھانچے، ہارڈ ویئر اور صنعتی سپلائی چین تک محدود ہے، جبکہ مصنوعی ذہانت سے مستقل تجارتی آمدنی حاصل کرنے کا عمل ابھی ابتدائی مراحل میں ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین کی مصنوعی ذہانت کی کمپنیوں کو کم لاگت اور اوپن ویٹ ماڈلز کی دستیابی کے باعث بعض مسابقتی فوائد حاصل ہیں۔ تاہم شدید کاروباری مقابلے کے نتیجے میں ان کمپنیوں کے لیے اپنی خدمات کی مناسب قیمت وصول کرنا اور سرمایہ کاری پر مطلوبہ منافع حاصل کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔فچ نے چین اور امریکہ کے مصنوعی ذہانت کے شعبوں کا تقابلی جائزہ بھی پیش کیا ہے۔ اس کے مطابق چینی کمپنیاں کم لاگت پر اے آئی ٹیکنالوجی فراہم کرنے اور قیمت کے حوالے سے حساس منڈیوں میں اپنی موجودگی بڑھانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔اس کے برعکس امریکی کمپنیاں جدید ترین مصنوعی ذہانت کے ماڈلز، عالمی کلاؤڈ انفراسٹرکچر، بڑے کاروباری صارفین تک رسائی اور ٹیکنالوجی سے آمدنی حاصل کرنے کی صلاحیت میں نسبتاً مضبوط پوزیشن رکھتی ہیں۔فچ نے چین کی معیشت میں موجود بنیادی عدم توازن کی بھی نشاندہی کی ہے۔