پاکستان میں آزادیٔ صحافت کا بحران سنگین – سنسرشپ اور قانونی ہراسانی کے خلاف صحافی متحد
اسلام آباد۔28؍ اکتوبر۔ ایم این این۔ پاکستان میں آزادیٔ صحافت پر بڑھتی ہوئی پابندیوں، سنسرشپ، قانونی ہراسانی اور صحافیوں کے خلاف کارروائیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ملک کی سرکردہ صحافتی تنظیموں، سینئر صحافیوں، سیاسی نمائندوں اور سول سوسائٹی نے مشترکہ جدوجہد شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اسلام آباد میں منعقدہ ایک اہم گول میز کانفرنس میں شرکا نے خبردار کیا کہ پاکستان میں آزاد صحافت کو شدید دباؤ کا سامنا ہے، جبکہ سائبر کرائم قوانین، معاشی مشکلات اور ڈیجیٹل رابطوں پر پابندیاں آزادیٔ اظہار کو مزید محدود کر رہی ہیں۔اجلاس کی صدارت سینئر صحافی ناصر زیدی نے کی، جبکہ کارروائی کی نظامت منیزے جہانگیر نے انجام دی۔ شرکا نے صحافتی آزادیوں کی خلاف ورزیوں کو دستاویزی شکل دینے اور مشترکہ مطالبات مرتب کرنے کے لیے ایک کمیٹی قائم کرنے پر اتفاق کیا۔معروف صحافی حامد میر نے پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) کے تحت صحافیوں کے خلاف مقدمات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے تجویز دی کہ آزادیٔ اظہار پر پابندیوں اور ان قوانین کی منظوری میں سیاسی جماعتوں کے کردار سے متعلق وائٹ پیپر تیار کیا جائے۔سینئر صحافی مجیب الرحمٰن شامی نے کہا کہ پاکستان کا مسئلہ صرف قوانین کی کمی نہیں بلکہ موجودہ قوانین پر مؤثر عمل درآمد کا فقدان بھی ہے۔نجم سیٹھی نے سیاسی جماعتوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ بنیادی حقوق کے تحفظ میں ناکام رہی ہیں۔ ان کے مطابق خود ساختہ سنسرشپ اور میڈیا مالکان کے تجارتی دباؤ نے آزاد صحافت کو مزید کمزور کر دیا ہے۔صحافی عاصمہ شیرازی نے خواتین صحافیوں کے خلاف آن لائن ہراسانی اور منظم مہمات پر تشویش ظاہر کی، جبکہ عارفہ نور نے صحافیوں کے ساتھ بدسلوکی اور میڈیا پر عائد پابندیوں کا منظم ریکارڈ تیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔بلوچستان، سندھ، خیبر پختونخوا، پنجاب، پاکستان کے زیرِ قبضہ جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے صحافیوں نے سکیورٹی خطرات، معاشی دباؤ اور آزادانہ رپورٹنگ میں بڑھتی ہوئی مشکلات کی نشاندہی کی۔خیبر پختونخوا کے صحافتی رہنما ناصر حسین نے بتایا کہ نائن الیون کے بعد سے صوبے میں 30 سے زائد صحافی قتل ہو چکے ہیں، جبکہ صرف 2025 میں 22 صحافیوں کو دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا۔سابق سینیٹر فرحت اللہ بابر نے تجویز دی کہ صحافتی اتحاد سیاسی جماعتوں کے ساتھ براہِ راست رابطہ قائم کرے اور نگرانی، ذاتی معلومات کے غلط استعمال اور آزادیٔ اظہار پر پابندیوں کے خلاف واضح مطالبات پیش کرے۔
