عالمی خبریں

پاکستان کے راولپنڈی میں بجلی کا بحران شدت اختیار کر گیا – چھ سے آٹھ گھنٹے کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ سے عوام پریشان

راولپنڈی۔28؍ اکتوبر۔ ایم این این۔ پاکستان کے شہر راولپنڈی میں بجلی کی طویل اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ نے شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔ مختلف علاقوں میں روزانہ چھ سے آٹھ گھنٹے تک بجلی کی بندش سے گھریلو زندگی، تعلیمی سرگرمیاں اور کاروبار بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔شہریوں کے مطابق سرد موسم کی آمد کے باوجود بجلی کی بندش کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو) پیشگی اطلاع دیے بغیر بجلی منقطع کر رہی ہے۔آئیسکو کا کہنا ہے کہ بجلی کی طلب اور رسد میں فرق پورا کرنے کے لیے روزانہ دو گھنٹے کی لوڈ مینجمنٹ کی جا رہی ہے، تاہم شہریوں کا دعویٰ ہے کہ عملی طور پر کئی علاقوں میں چھ سے آٹھ گھنٹے بجلی غائب رہتی ہے۔فیصل کالونی کے رہائشی محمد اویس نے بتایا کہ ان کے علاقے میں صبح آٹھ بجے سے دوپہر دو بجے تک مسلسل چھ گھنٹے بجلی بند رہی، جبکہ چند روز بعد دوبارہ بغیر اطلاع بجلی منقطع کر دی گئی۔ ان کے مطابق اس صورتحال سے طلبہ، ملازمت پیشہ افراد اور گھریلو خواتین کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔شاہ خالد کالونی کے رہائشی محمد فرحان نے شکایت کی کہ بجلی کی کم کھپت کے باوجود ماہانہ بل دس ہزار پاکستانی روپے سے تجاوز کر رہے ہیں، جبکہ صارفین کو مسلسل لوڈشیڈنگ برداشت کرنا پڑ رہی ہے۔میڈیا ٹاؤن کے رہائشی سہیل راجہ کے مطابق شام اور رات کے اوقات میں بھی بجلی کی بندش معمول بن چکی ہے۔ شکایت کرنے پر انہیں بتایا گیا کہ غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ پاکستان الیکٹرک پاور کمپنی کی جانب سے کی جا رہی ہے۔ڈھوک رتہ کے رہائشی عبدالرحمان نے حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عوام پہلے ہی معاشی مشکلات کا شکار ہیں اور بجلی کی مسلسل بندش نے صورتحال مزید خراب کر دی ہے۔دوسری جانب تاجروں نے بھی بجلی کی طویل بندش سے کاروباری نقصان کی شکایت کی ہے۔ راجہ بازار کے دکانداروں کے مطابق انہیں دکانیں روشن رکھنے اور کاروبار جاری رکھنے کے لیے جنریٹر استعمال کرنا پڑ رہے ہیں، جس سے اخراجات بڑھ گئے ہیں۔