سیاح اب ہماچل پردیش کے چڑیا گھر میں رائل بنگال ٹائیگر کے جوڑے ‘باجی راؤ’ اور ‘مستانی’ کا دیدار کر سکیں گے
ناہن (یو این آئی) ہماچل پردیش میں تقریباً ڈیڑھ ماہ کے طویل انتظار کے بعد سیاح اب سرمور ضلع کے رینوکا جی منی چڑیا گھر میں رائل بنگال ٹائیگر کے جوڑے ‘باجی راؤ’ اور ‘مستانی’ کا دیدار کر سکیں گے۔ ان دونوں شیروں کے لیے جدید ترین انکلوژر تیار کیے گئے ہیں۔
وائلڈ لائف ڈپارٹمنٹ شملہ کے ڈی ایف او ڈاکٹر شہنواز احمد بھٹ نے یہ اطلاع دی۔ تقریباً 12 سال کے طویل انتظار کے بعد رائل بنگال ٹائیگر کا یہ جوڑا 20 ستمبر کو رینوکا جی پہنچا تھا۔ ان دونوں شیروں کو مہاراشٹر کے ناگپور میں واقع گورے واڑہ وائلڈ لائف چڑیا گھر سے سخت حفاظتی انتظامات کے تحت لایا گیا تھا۔ تقریباً 1900 کلومیٹر کا یہ سفر 41 گھنٹے میں مکمل کیا گیا تھا۔ محکمہ نے شیر (ٹائیگر) کا نام ‘باجی راؤ’ اور شیرنی کا نام ‘مستانی’ رکھا ہے۔
شیروں کے لیے تیار کیے گئے اس جدید احاطے میں سایہ دار مقامات، کھلے علاقے، آرام گاہ اور دیگر ضروری سہولیات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، باقاعدہ طبی معائنے، نگرانی اور ہنگامی علاج کے لیے ایک وائلڈ لائف ٹریٹمنٹ سینٹر بھی قائم کیا گیا ہے۔
ڈی ایف او کے مطابق، شیروں کو دیکھنے کے لیے سیاحوں کو مقررہ فیس ادا کرنی ہوگی۔ ٹکٹنگ نظام کے انتظام کے لیے ٹینڈر طلب کیے گئے ہیں، جنہیں 12 نومبر کو کھولا جائے گا۔ بالغ افراد کے لیے ٹکٹ کی قیمت 40 روپے اور بچوں کے لیے 20 روپے مقرر کی گئی ہے۔
محکمہ کو امید ہے کہ باجی راؤ اور مستانی کی موجودگی سے شری رینوکا جی منی چڑیا گھر کی کشش میں مزید اضافہ ہوگا اور سیاحوں کو جنگلی حیات کو قریب سے دیکھنے کا ایک نیا موقع ملے گا۔
