قومی خبریں

پانچ منٹ میں ثابت کر دوں گا غدارِ وطن ہیں مودی : راہل گاندھی

سنگرور (پنجاب) (یو این آئی) کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی پر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے کنٹرول میں ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ایم مودی غدارِ وطن ہیں اور وہ آمنے سامنے کی بحث میں پانچ منٹ کے اندر اس بات کو ثابت بھی کر دیں گے۔مسٹر گاندھی نے بدھ کے روز انصاف ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایک دن پہلے وزیر اعظم مودی کو آمنے سامنے بحث کرنے کا چیلنج دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس بحث میں فیصلہ کرنے کے لیے وزیر اعظم جسے چاہیں، بٹھا سکتے ہیں۔ وہ موہن بھاگوت یا اڈانی کو بھی ثالث بنانے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم پارلیمنٹ میں بحث کی بات کرتے ہیں، لیکن وہاں اپوزیشن کا مائیک بند کر دیا جاتا ہے اور اسے بولنے کا موقع نہیں دیا جاتا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وزیر اعظم ان کے سامنے بیٹھ کر بحث کرنے کی ہمت نہیں کر سکتے۔انہوں نے الزام لگایا کہ ڈونالڈ ٹرمپ وزیر اعظم مودی کو کنٹرول کرتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ نے دھمکی دے کر ان سے پانچ منٹ کے اندر امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدے پر دستخط کروا لیے۔ اس معاہدے کے لیے نہ تو کابینہ کی میٹنگ بلائی گئی اور نہ ہی افسران سے مشورہ کیا گیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اس معاہدے سے ملک کے کسانوں کے مفادات کو نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر مودی نے امریکہ کے سامنے کچھ نہیں کہا۔ ٹرمپ مسلسل دعویٰ کرتے ہیں کہ انہوں نے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جنگ رکوا دی، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر کچھ نہیں بول پاتے۔ انہوں نے سوال کیا کہ وزیر اعظم مسٹر ٹرمپ کے اس دعوے کا جواب کیوں نہیں دیتے؟کانگریس رہنما نے وزیر داخلہ امت شاہ کو بھی نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پنجاب سے تین سال میں منشیات کا خاتمہ کرنے کا وعدہ کیا ہے، لیکن ان کا یہ دعویٰ پورا نہیں ہوگا۔ انہوں نے اندازہ ظاہر کیا کہ موجودہ حکومت ایک سال بھی نہیں چلے گی اور تین سال بعد امت شاہ وزیر داخلہ بھی نہیں رہیں گے۔
انہوں نے سوال کیا کہ منشیات کے خلاف کارروائی کے دوران جو ہیروئن اور دیگر نشہ آور اشیاء پکڑی جاتی ہیں، ان کے سلسلے میں وزیر داخلہ نے کیا کارروائی کی ہے؟ انہوں نے کہا کہ امت شاہ کو بتانا چاہیے کہ جب اتنی بڑی مقدار میں منشیات پکڑی جا رہی ہیں تو ان کے خلاف کیا کارروائی کی گئی ہے۔مسٹر گاندھی نے کہا کہ پنجاب کو ایسی حکومت کی ضرورت ہے جو ریاست کے عوام اور نوجوانوں کے مفادات کے لیے کام کرے۔ کانگریس کی حکومت بننے پر پنجاب کا نظامِ حکومت دہلی سے نہیں بلکہ پنجاب سے چلایا جائے گا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ فی الحال پنجاب حکومت کی آدھی کمان امت شاہ اور آدھی دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال کے ہاتھ میں ہے، جبکہ وزیر اعلیٰ بھگونت مان محض بیٹھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کا وزیر اعلیٰ حقیقت میں پنجاب کا وزیر اعلیٰ ہونا چاہیے اور ریاست کا نظام نہ تو مرکزی وزیر داخلہ چلائیں اور نہ ہی دہلی کا کوئی سابق وزیر اعلیٰ۔