نئی دہلی، (یو این آئی) سپریم کورٹ نے نوٹ کے بدلے ووٹ کے معاملے میں 1998 کے فیصلے پر دوبارہ غور کرنے سے متعلق اپنا فیصلہ جمعرات کو م حفوظ کر لیا۔چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ، جسٹس اے ایس بوپنا، جسٹس ایم ایم سندریش، جسٹس پی ایس نرسمہا، جسٹس جے بی پاردی والا، جسٹس سنجے کمار اور جسٹس منوج مشرا کی بنچ نے جھارکھنڈ مکتی مورچہ رشوت معاملے کے طور پر معروف اس معاملے میں سماعت مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا ۔ قابل ذکر ہے کہ عدالت عظمیٰ کے 1998 کے فیصلے میں کہا گیا تھا کہ ارکان پارلیمنٹ اور ایم ایل ایز کوایوان میں ووٹ ڈالنے یا تقریر کرنے کے لیے رشوت لینے کے معاملے میں استغاثہ سے چھوٹ حاصل ہے ۔ عدالت عظمیٰ کی سات رکنی بنچ نے اس فیصلے پر نظر ثانی کے لیے سماعت مکمل کی۔عدالت عظمیٰ کی سات رکنی بنچ کے سامنے سماعت کے دوران، سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے دلیل دی کہ رشوت خوری کو کبھی بھی چھوٹ کا موضوع نہیں بنایا جا سکتا۔ مسٹرمہتا نے کہا کہ آئینی پرویژن کا مقصد قانون سازی کے فرائض کو بلا خوف و خطر انجام دینا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سوال صرف یہ ہے کہ رشوت کو اس استحقاق یا چھوٹ کے تحت رکھا جانا چاہئے ۔ سالیسٹر جنرل نے کہا کہ شاید ایک اور پہلو بھی ہو سکتا ہے جس پر اس عدالت کو غور کرنا چاہیے کہ آیا رشوت کو استثنیٰ یا استحقاق سے محفوظ رکھا جا سکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ 1998 کے فیصلے میں نہ تو اکثریت اور نہ ہی اقلیت نے اس نقطہ نظر سے اس معاملے کا جائزہ لیا۔بنچ نے کہا کہ وہ جگہ جہاں جرم ہوا تھا اور چاہے وہ تقریر/ ووٹنگ سے پہلے تھا یا بعد میں کوئی فرق نہیں ہونا چاہئے ۔ بنچ نے پوچھا کہ اگر رشوت دینے کا معاہدہ ایوان میں ہی ہو جائے تو کیا ہو گا۔مرکز کی نمائندگی کرنے والے اٹارنی جنرل آر وینکٹرامانی نے کہا کہ مقننہ کے مختلف کاموں کے سلسلے میں تقریر یا طرز عمل، جہاں منتخب نمائندے شرکت کرتے ہیں، وہ محفوظ ہے ۔












