کولکاتہ، 25؍دسمبر،پریس ریلیز،ہماراسماج:کسی بھی دیش اور ریاست کی ترقی اسی وقت ممکن ہے کہ وہاں کی آبادی کا ادھا حصہ تعلیم یافتہ ہو۔خواہ وہ کوئی بھی زبان سے تعلق رکھتا ہو اپنی مادری زبان میں اپنی مادری زبان میں تعلیم حاصل کرنا اس کا آئینی حق بھی بنتا ہے مگر یہ حق آج مغربی بنگال کی موجودہ سرکار چھین رہی ہے۔ ہندوستان کی آئین ہر شخص کو اپنی مادری زبان میں تعلیم حاصل کرنے کا حق دیتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر زبان اور مذہب کے ماننے والوں کو زبان اور ثقافت کا حق فراہم کرے۔ اور یہی وجہ ہے کہ ہمارا ملک مختلف زبانوں کے ذریعے تعلیم فراہم کرتا ہے۔ کسی بھی شخص کو کسی خاص مذہب، زبان یا سماجی حیثیت کی بنا پر سرکاری ملازمت یا سہولیات سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔اس کے باوجود انہیں مغربی بنگال حکومت کے زیر اہتمام امتحان ڈبلیو بی سی ایس میں اردو کو سنجیدگی کے ساتھ ہٹا کر 300 پیپر کے بنگلہ کمپلسری کرنا اردو والوں پر بہت بڑا ظلم کیا جا رہا ہے اب یہ معاملہ نہ صرف اردو والوں کے ساتھ بلکہ اس کا خمیازہ ہندی والے کو بھی پڑ رہا ہے۔خود میں سے سیکولر کہلانے والی موجودہ سرکار ایک سازش کے تحت نوجوانوں کو نہ صرف سرکاری شعبے سے دور رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔اردو اور ہندی کے اسٹوڈنٹ کو سرکاری نوکری نہ ملے ،ان نوجوانوں کا مستقبل روشن ہونے سے پہلے ہی زور زبردستی اندھیرا میں ڈھکیلا جا رہا ہے مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ ان بچوں کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ ہوتے دیکھ کر منہ میں گوند کی لڈو لے کر بیٹھے ہوئے ہیں نہ تو اس کے خلاف کسی طرح کی اوازیں اٹھ رہی ہے اور نہ ہی اس کے خلاف کسی طرح کا اندولن چھیڑا گیا ۔ویسے تو کئی اداروں نے دعوی کیا ہے کہ اس سلسلے میں سی ایم ممتا بینرجی کو لیٹر دیا گیا ہے مگر اس کا نتائج کہیں بھی نظر نہیں آیا بے۔یاد رہے کہ مغربی بنگال میں تقریبا مائنوریٹی کی آبادی 40 فیصد ہے اس کے باوجود بھی مائنوریٹی کو وہ حق نہیں مل پا رہا ہے جو انہیں ملنا چاہیے ۔مغربی بنگال واحد ریاست ہے جہاں پر مائنوریٹی ووٹ سے سرکار بنتی اور گرتی بھی ہے مگر شاید سرکار اس بات کو بھول رہی ہے۔ ڈبلیو بی سی ایس میں بنگلہ اور اردو کے درمیان تفریق پیدا کر کے ڈبلیو بی سی ایس سے اردو اور ہندکو ہٹا کر کیا امتحان لے رہی ہے۔شاید سرکار یہ بھی بھول گئی ہے کہ ہندی زبان ایک قومی زبان ہے۔اور آپ قومی زبان کو کیوں کر ہٹا سکتے ہیں۔مغربی بنگال کی موجودہ سرکار کے اس پالیسی کے خلاف چند تعلیم یافتہ لوگ خاموشی کو توڑتے ہوئے ایک تحریک کی بنیاد ڈال دی گئی ہے اور اس تحریک کی بنیاد صحافی شمع افروز نے ڈالی ہے۔جس کے سرپرستی اردو تحریک کے پہلے بانی پروفیسر حیدر حسن کاظمی فرما رہے ہیں ۔ بنگباسی کالج کے ریٹائرڈ پروفیسر حیدر حسن کاظمی یہ کہتے ہوئے رو پڑے کہ مغربی بنگال میں اردو زبان کا خاتمہ کیا جا رہا ہے نیپالی لینگویج کو منیتا دیا جا رہا ہے مگر اردو کو کیوں نہیں ۔انہوں نے تقریر کے درمیان میں افسوس کا اظہار کیا، ‘حکومت میری مادری زبان بھی چھین لے گی! حکومت اردو بولنے والے طلباء کو کوئی متبادل فراہم کیے بغیر بنگلہ زبان کو کیوں لازمی قرار دے رہی ہے؟ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا۔ اس کے بعد انہوں نے کہا کہ اردو اور ہندی جیسی زبانیں بولنے والوں کے لیے ایک بڑی تحریک ہونی چاہیے جو اس WBCS امتحان سے محروم ہیں۔
اور ان کے الفاظ میںمادری زبان بچاؤ تحریک ،،کے نام سے ایک غیر سیاسی فورم بنانے کی تجویز اتوار کو شمس الہدی روڈ پر میٹنگ روم میں منظور کی گئی۔ ممتاز صحافی شمع افروز کی کال پر شہری اجلاس میں اس اسٹیج کی تشکیل کی تجویز منظور کر لی گئی۔ جہاں کئی نامور اردو بولنے والے موجود تھے۔
اس موقع پر اردو سے محبت کرنے والے اور دور درشن کے ڈائریکٹر جناب خورشید ملک، عامر کاظمی، ڈاکٹر جمال الدین شمس ،عرش منیر،شیراز نعمانی ، اسلم علی، منظر جمیل، ندیم صدیقی، آفتاب عالم،معروف سماجی کارکن شیخ راجہ اور دیگر حضرات موجود تھے۔ اس دن منظر جمیل نے شکایت کی کہ کولکتہ میں تمام اردو زبان کے اسکول تباہی کے دہانے پر ہیں۔ کسی بھی اسکول میں کافی اساتذہ نہیں ہیں۔ پھر بھی کسی نہ کسی طرح وہ اسکول زندہ ہیں۔ اور آج حکومت نے WBCS امتحان میں اردو زبان کے امیدواروں کو 300 نمبرات کے بنگلہ لازم کر کے اردو زبان کے طلباء اور اسکولوں کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی ہے۔ انہوں نے شکایت کی کہ ریاستی حکومت نے مختلف مواقع پر دعوے کرتی ہےکہ اقلیتوں کے ساتھ ہے اور مختلف کام کئے ہیں۔ دراصل یہ حکومت عوام کے ساتھ چالیں کھیل رہی ہے۔ اس تناظر میں انہوں نے صابر احمد کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیا، جو ڈاکٹر امرتیا سین کی پرتیچی فاؤنڈیشن کے محققین میں سے ایک ہیں۔ ان کے الفاظ میں سچر کمیٹی کے بعد اس ترنمول حکومت کے دوران مسلمانوں کے حالات میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے بلکہ مزید بدتر ہوئی ہی، یہ تحقیق سے واضح ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے آنے کے خوف سے لوگوں کو گمراہ کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح ندیم صدیقی بھی اردو ہٹانے کی مخالفت میں شامل ہو گئے۔ اس سماجی کارکن کے مطابق اگرچہ سرکاری طور پر اردو کو دوسری زبان کے طور پر تسلیم کر لیا گیا ہے لیکن آج بھی اس پر عمل درآمد نہیں ہو سکا ہے۔ اردو بولنے والے علاقوں میں، تھانوں یا دیگر مقامات پر اردو میں لکھے گئے خطوط کو قبول نہیں کیا جاتا، کیونکہ وہاں اردو پڑھنے والے لوگ نہیں ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ اتنے عرصے کے بعد بھی اس پر عمل کیوں کیا گیا؟ اسی طرح مغربی بنگال کے اردو میڈیم اسکولوں کو ایس سی اور ایس ٹی کے ریزرو زمروں کے تحت تعلیم یافتہ مضامین کے اساتذہ کی عدم دستیابی کی وجہ سے مسائل کا سامنا ہے، ایچ ایم آفتاب عالم نے نوٹ کرایا ۔ انہوں نے بتایا کہ اردو زبان میں تعلیمی حاصل کرنے والے طلباء کی کافی تعداد ہے لیکن اردو میڈیم اسکولوں میں انہیں پڑھانے کے لیے اساتذہ نہیں ہیں۔
اجلاس کے منتظم نے کہا کہ آنے والے دنوں میں بڑی تحریک چلائی جائے گی، ضرورت پڑی تو عدالت جائیں گے۔ اس دن کے اجلاس کی کنوینر صحافی شمع افروز نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ میں اردو زبان کے اس آئینی حق کے حصول کے لیے آخری دم تک لڑتی رہوں گی۔ اگر حکومت نے اردو کو دوسری زبان کے طور پر تسلیم کیا ہے تو پھر اسے ملازمت کے امتحان سے کیوں خارج کیا جا رہا ہے۔ شمع افروز نے بتایا کہ چند روز میں نئی کمیٹی بنائی جائے گی اور اس کمیٹی کے ذریعے آئندہ تحریک کا خاکہ طے کیا جائے گا۔












