تاریخی سنہری باغ مسجد کو بچانے کی کوشش تیز
مسلم اراکین پارلیمنٹ کی تحفظ مساجد کے لیے ہنگامی میٹنگ جلد
آئی ایم سی آر کے چیئرمین اور سابق رکن پارلیمنٹ محمد ادیب نے سنبھالہ مورچہ ، شاہی امام سید احمد بخاری بھی اپنے طور پر مسجد کی حفاظت کے لیے سرگرم عمل ، مولانا توقیر رضا خاں نے ہمارا سماج سے بات کرتے ہوئے کہا اب کوئی مسجد شہید ہوئی تو حکومت کی اینٹ سے اینٹ بجادوں گا
ممتاز عالم رضوی
نئی دہلی :سینٹرل سکریٹریٹ ادھیوگ بھون کے قریب رفیع مارگ پر واقع قدیم تاریخی سنہری باغ مسجد کی حفاظت کے لیے
ملت اسلامیہ ہند کی طرف سے کوششیں تیز ہو گئی ہیں۔ ایک طرف جہاں جمعیۃ علمائ ہند ، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ جیسی تنظیمیں سرگرم عمل ہیں اور مسجد کی حفاظت کے لیے وزیر اعظم نریندر مودی کو مکتوب تک روانہ کیا ہے وہیں دوسری طرف اب مسلم اراکین پارلیمنٹ بھی اس مسئلہ پر جلد سرجوڑ کر بیٹھیں گے۔ انڈین مسلم سول رائٹس (آئی ایم سی آر ) کے چیئرمین اور سابق رکن پارلیمنٹ محمد ادیب اس سلسلہ میں مسلم اراکین پارلیمنٹ سے رابطہ کر رہے ہیں اور جلد وہ ان کے ساتھ اس مسئلہ پر میٹنگ کریں گے۔ محمد ادیب نے ہمارا سماج سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مسلم اراکین پارلیمنٹ خواہ کسی بھی پارٹی میں ہوں ،ان سب سے راطہ قائم کیا جا رہا ہے اور ان کو اس مسئلہ پر مدعو کیا جا ئے گا کیونکہ یہ مسئلہ بہت اہم ہے۔انھوں نے کہا کہ یہ میٹنگ کانسٹی ٹیوشن کلب آف انڈیا میں منعقد کی جائے گی اور میٹنگ جمعہ یا ہفتہ کو منعقد ہو سکتی ہے۔اس میٹنگ میں آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اور رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی اور اے آئی یو ڈی ایف کے صدر اور رکن پارلیمنٹ مولانا بدر الدین اجمل کو بھی مدعو کیا جائے گا ۔کیا اراکین پارلیمنٹ
میٹنگ کے بعد سنہری باغ مسجد کا دورہ بھی کر سکتے ہیں ؟ اس پر انھوں نے کہا کہ یقینا کر
سکتے ہیں اور وہاں نماز بھی ادا کر سکتے ہیں،جو بھی میٹنگ میں طے ہوگا۔اس کے علاوہ اتحاد ملت کونسل کے قومی صدر مولانا توقیر رضا خاں نے بھی اپنی شدید ناراضگی کااظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ اگر اب کوئی مسجد شہید ہوئی تو حکومت کی اینٹ سے اینٹ بجا دوں گا ۔ ہمارا سماج سے فون پر بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ میں اس وقت ممبئی کے دورے پر ہوں لیکن دو ایک دن میں دہلی پہنچ رہا ہوں ۔ انھوں نے کہا کہ میں مسجد کا دورہ کروں گا اور مسجد کسی بھی قیمت پر شہید نہیں ہونے دوں گا ۔ انھوں نے کہا کہ مسلمانوں کو اب سڑک پر اتر کر احتجاج کرنا چاہئے ۔مولانا رضا نے کہا کہ ہم جان دے دیں گے لیکن اب ایک بھی مسجد نہیں شہید ہونے دیں گے ۔ این ڈی ایم سی کے نوٹس پر کہا کہ آخر کس بات کی رائے ۔جب وہ قدیم مسجد ہے ، قومی ورثہ میں
شامل ہے تو پھر اس کو منہدم کرنے کی بات کیوں کی جا رہی ہے ؟ انھوں نے کہا کہ آخر سنہری باغ مسجد کو کیوں نشانہ بنایا جا رہا ہے ، یہاں تو ان کے کسی بھگوان کی پیدائش
نہیں ہے ۔ مولانا توقیر رضا نے کہا کہ اب ہم عبادت گاہوں کے معاملے میں کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے ۔ مسجد ہے اور رہے گی ۔انھوں نے کہا کہ کیا سارے مسائل مسجد اور مسلمانوں کی وجہ سے پیدا ہو رہے ہیں جو ان کو ختم کرنے کی مہم چلائی جا رہی ہے ۔کیا مسجد اور مسلمانوں کے ختم ہونے سے ملک کا نظام ٹھیک ہوگا ۔انھوں نے کہا کہ مسجد کے پاس ہی مامو بھانجے کی مزار بھی تھی اس کو بھی مٹا دیا گیا ۔ آخر یہ سب کیا ہو رہا ہے ؟دوسری جانب شاہی امام سید احمد بخاری بھی اپنے طور پر مسجد کی حفاظت کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ذرائع کے مطابق وہ اپنے طور پرمتعلقہ شعبہ سے رابطہ قائم کر رہے ہیں ۔شاہی امام کے ساتھ معروف سماجی کارکن حافظ جاوید بھی سرگرم عمل ہیں تاکہ کسی بھی طرح اس مسجد کو بچایا جا سکے ۔












