لکھنؤ،28دسمبر، ہمارا سماج نیوز سروس :عام انتخابات 2024 سے قبل بی ایس پی کی جانب سے دیے گئے بیان نے ایک بار پھر قومی سیاست میں ہلچل پیدا کر دی ہے ۔ ملک کے سب سے بڑے صوبہ اتر پردیش میں انڈیا اتحاد کی شکل و صورت کیا ہوگی اس پر سب کی نظریں مرکوز ہیں چنانچہ ایسے میں بی ایس پی کی جانب سے شرط کے ساتھ اتحاد میں شامل ہونے کی بات نے سب کو چونکا دیا ہے ۔ بی ایس پی کے رکن پارلیمنٹ ملوک ناگر نے کہا کہ اگر بہن مایاوتی کو انڈیا اتحاد کا پی ایم چہرہ بنایا جاتا ہے تو بی ایس پی انڈیا میں شامل ہو سکتی ہے ۔رپورٹ کے مطابق ملوک ناگر نے بڑا دعویٰ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک مایاوتی انڈیا اتحاد کے ساتھ نہیں آتیں اس کا کوئی وجود نہیں ہے اور بی جے پی کو روکنا مشکل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر انڈیا اتحاد میں مایاوتی کو وزیر اعظم کا چہرہ بنایا جاتا ہے تو بی ایس پی اس اتحاد میں شامل ہو سکتی ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ حتمی فیصلہ صرف بی ایس پی سپریمو کو ہی لینا ہے۔ انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ بی جے پی کے پاس اتر پردیش میں 44 فیصد زیادہ ووٹ ہیںجبکہ انڈیا اتحاد کے پاس 37-38 فیصد ووٹ ہیں۔ بی ایس پی کے پاس 13 ؍فیصد ووٹ ہیں جو فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں لیکن یہ تبھی ممکن ہے جب مایاوتی کو وزیر اعظم کا چہرہ بنایا جائے۔ ناگر نے کہا کہ مایاوتی ملک کی سب سے بڑی دلت لیڈر ہیں اور تمام ریاستوں میں ان کی حمایت حاصل ہے۔ مایاوتی کو وزارت عظمیٰ کا امیدوار بنانے سے بھگوا بریگیڈ کے ذریعہ دلت ووٹروں کو بھی واپس لایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر انڈیا اتحاد ایسا نہیں کرتا تو بی جے پی کو شکست دینا مشکل ہو جائے گا۔غور طلب بات یہ ہے کہ بی ایس پی کی طرف سے یہ بیان اس وقت آیا ہے جب انڈیا اتحاد کی میٹنگ میں بطور پی ایم امیدوار کانگریس کے صدر اور دلت چہرہ ملکا ارجن کھرگے کا نام پیش کیا جا چکا ہے ۔ مغربی بنگال کی وزیر اعلی اور ٹی ایم سی کی روح رواں ممتا بنرجی نےکھرگے کا نام میٹنگ میں پیش کیا تھا جس کی تائید دہلی کے وزیر اعلی اروند کجریوال نے کی تھی لیکن کھرکے نے اس تجویز کو خارج کر دیا اور اعلان کیا کہ پی ایم کے لیے نام کا اعلان اور انتخاب الیکشن کے بعد کیا جائے گا۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا مایاوتی نے دلت چہرے کے خوف سے یہ شرط رکھی ہے یا پھر یہ محض دکھاوا ہے۔واضح رہے کہ اب تک انڈیا اتحاد میں کل 28؍پارٹیاں شامل ہو چکی ہیں ۔ اتر پردیش میں سماجوادی پارٹی اور آر ایل ڈی بھی انڈیا اتحاد کا حصہ ہیں لیکن بی ایس پی نے اعلان کر رکھا تھا کہ وہ الگ ہی الیکشن لڑنے جا رہی ہے ۔ حالانکہ چہ می گوئیاں چل رہی تھیں کہ آخری وقت میں مایاوتی بھی اتحاد میں شامل ہوں گی کیونکہ ان کو معلوم ہے کہ اگر وہ اتحاد میں شامل نہیں ہوئیں تو ان کی شکست یقینی ہے کیونکہ لوگ یا تو اس بار اتحاد کو ووٹ کریں گے یا پھر بی جے پی کے ساتھ جائیں گے ۔ عام انتخابات 2019؍میں مایاوتی کو 10؍لوک سبھا سیٹ سماجوادی پارٹی کے ساتھ اتحاد کی وجہ سے ہی ملی تھی جبکہ اسمبلی انتخابات 2022؍میں بی ایس پی کا سوپڑا صاف ہو گیا تھا ۔ اب مایاوتی خود کو بچانا چاہتی ہیں ۔یہ بھی غور طلب ہے کہ بی ایس پی کا کوئی بھی لیڈر کبھی بھی اپنی مرضی سے بیان نہیں دیتا ، اس لیے یہ تصور کیا جا رہا ہے کہ ملوک ناگر نے جو بیان دیا ہے وہ اپنی مرضی سے نہیں بلکہ مایاوتی کی مرضی بھی اس میں شامل ہے ۔












