اللہ کے گھر دیر ہے اندھیر نہیں
ممتاز عالم رضوی
نئی دہلی :کہتے ہیں اللہ کے گھر دیر ہے اندھیر نہیں ۔ اسی امید کے ساتھ ظالمین کے خلاف لڑنے والی بلقیس بانو کو آخر کار ایک بار پھر انصاف مل گیا ۔ گجرات کی بی جے پی حکومت کے رحم و کرم پرغیر قانونی طور پر رہا کیے گئے 11؍زانیوں اور قاتلوں کو پھر سلاخوں کے پیچھے جانا پڑے گا۔ سپریم کورٹ نے مقدمہ کی سماعت کرنے کے بعد اجتماعی آبروریزی اور قتل کو انجام دینے والے سبھی مجرمین کو دو ہفتے کے اندر اندر خود سپردگی کا حکم جاری کیا۔سپریم کورٹ کے اس فیصلہ نے گجرات حکومت اور فرقہ پرست طاقتوں میں منہ پر زوردار طمانچہ مارا ہے کیونکہ عدالت عظمیٰ نے گجرات حکومت کے فیصلہ کو غیر قانونی قرار دیا ہے ۔واضح رہے کہ گجرات قتل عام 2002؍میں پانچ ماہ کی حاملہ بلقیس بانو کی اجتماعی آبرو ریزی کی گئی تھی جبکہ ان کے اہل خانہ کے 7؍افراد کا قتل کیا گیا تھا۔بلقیس بانو کی تین سالہ بیٹی کو بھی زمین پر پٹخ کر مار دیا گیا تھا۔ مذکورہ بالا سبھی مجرمین کو 2008؍میں عمر قید کی سزا ملی تھی لیکن گجرات حکومت نے 2022؍میں انھیں یہ کہتے ہوئے رہا کر دیا تھا کہ ان سبھی کا بطور قیدی ریکارڈ اچھا ہے ۔ علاوہ ازیں جسٹس بی وی ناگرتنا اور جسٹس اجل بھویان کی بنچ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اس معاملے میں سزا معافی کے معاملے پر فیصلہ لینا گجرات حکومت کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا، اس لیے معافی کے فیصلے کو منسوخ کیا جاتا ہے۔بنچ نے کہا کہ اس کیس کی سماعت مہاراشٹر کی عدالت میں ہوئی تھی، اس لیے معافی کا فیصلہ لینا وہاں کی حکومت کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔گجرات حکومت کی 1992 کی معافی کی پالیسی کے تحت، باکا بھائی ووہانیہ، جسونت نائی، گووند نائی، شیلیش بھٹ، رادھیشیام شاہ، وپن چندر جوشی، کیشر بھائی ووہانیا، پردیپ موڈھواڈیا، راجو بھائی سونی، متیش بھٹ اور رمیش چندنا کو 15 ؍اگست 2022 ؍کو گودھرا سب جیل سے رہا کردیا گیاتھا۔ رہائی کے فیصلے کو عدالت میں چیلنج کیا گیا تھا۔عدالت عظمیٰ نے بلقیس بانو کی درخواست اور دیگر کی درخواستوں پر سماعت مکمل ہونے کے بعد 12 ؍اکتوبر 2023 ؍کو اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔سپریم کورٹ نے سماعت کے دوران کہا تھا کہ جرم خوفناک ہے لیکن وہ جذبات سے متاثر نہیں ہوگی اور صرف قانون کی بنیاد پر کیس کا فیصلہ کرے گی۔عدالت نے تب یہ بھی کہا تھا کہ گجرات حکومت اس معاملے میں اپنے دائرہ اختیار کا استعمال کرے گی کیونکہ وہاں جرم ہوا تھا۔بلقیس نے نومبر 2022 ؍میں عدالت سے رجوع کیاتھا۔ اپنی درخواست میں انہوں نے دلیل دی تھی کہ یہ سب سے بھیانک جرائم میں سے ایک تھا۔ ایک خاص کمیونٹی کے خلاف نفرت کی وجہ سے انتہائی غیر انسانی تشدد اور ظلم تھا۔بلقیس کے علاوہ، سی پی آئی (ایم) لیڈر سبھاشنی علی، آزاد صحافی ریوتی لول اور لکھنؤ یونیورسٹی کی سابق وائس چانسلر روپ ریکھا ورما اور برطرف ٹی ایم سی ایم پی مہوا موئترا نے بھی مجرموں کو دی گئی رعایت کے خلاف ایک پی آئی ایل دائر کی تھی ۔درخواست گزاروں نے دعویٰ کیا تھا کہ اگست 2022 ؍میں قصورواروں کو رہا کرنے کا حکم من مانی، بدنیتی اور تعصب پر مبنی تھا۔اس کے برعکس، قصورواروں نے دعوی کیا تھا کہ ایک بار جیل سے رہا ہونے کے بعد، آئین کے آرٹیکل 32 ؍کے تحت دائر درخواستوں کے پیش نظر ان کی آزادی کو متاثر نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی اس میں مداخلت کی جاسکتی ہے ۔انہوں نے یہ بھی دلیل دی کہ ضابطہ فوجداری کے تحت بھی متاثرین اور شکایت کنندگان کا ایک محدود کردار ہے ۔ ایک بار سزا سنائے جانے کے بعد متاثرہ کا کردار ختم ہو جاتا ہے ۔












