بھوپال کیمپ آفس (یو این آئی) لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نے آج بھوپال کے قانون ساز اسمبلی کمپلیکس میں مدھیہ پردیش قانون ساز اسمبلی کے اراکین کے لیے منعقدہ اورینٹیشن پروگرام کا افتتاح کیا۔ بعد میں مسٹر برلا نے مدھیہ پردیش قانون ساز اسمبلی کمپلیکس میں میڈیا سے بات کی۔مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو، مدھیہ پردیش قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر نریندر سنگھ تومر، مدھیہ پردیش کے وزراء اور کئی دیگر معززین اس تقریب میں موجود تھے ۔اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے مسٹر برلا نے قانون ساز اداروں میں نظم و ضبط اور شائستگی میں مسلسل گراوٹ پر تشویش کا اظہار کیا۔ سنجیدہ بحث و مباحثہ کے فورم کے طور پر مقننہ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایوان میں کسی حد تک گرمی، شور اور ہنگامہ ہونا فطری بات ہے ، لیکن گرما گرم بحث اکثر ایوان میں بدامنی اور بدنظمی کا باعث بنتی ہے ۔ اس سے وقت اور وسائل کا ضیاع اور عوام میں مقننہ کی ساکھ کا نقصان ہوتا ہے ۔ یہ بتاتے ہوئے کہ منصوبہ بند خلل جمہوریت کی روح کے لیے نقصان دہ ہے ، مسٹر برلا نے کہا کہ جب ایوان کی کارروائی میں اراکین کی فعال شرکت کو یقینی بنانے کی مخلصانہ کوششیں کی جاتی ہیں، تو ایسے وقت پر شور و غل کرنے سے ایوان کا وقار داؤ پر لگ جاتا ہے ۔ نظم و ضبط کی خلاف ورزی کے واقعات کی صورت میں، سخت اقدامات کرنے کو ضرورت ہوتی ہے ۔ انہوں ا نے اس بات پر زور دیا کہ اختلاف رائے سے ایوان کے کام کاج میں رکاوٹ پیدا نہیں ہونی چاہیے ۔مسٹر برلا نے کہا کہ یہ ہر ایم ایل اے کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ قانون سازی کے وقت کو زیادہ سے زیادہ نظم و ضبط اور عزم کے ساتھ استعمال کیا جائے اور صرف بامعنی اور نتیجہ خیز مباحثے کے لیے اس کا استعمال کیا جائے ۔ اپنی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے مسٹر برلا نے کہا کہ گزشتہ چند برسوں میں، خلل اور ہنگامے کی وجہ سے ایوان کی کارروائی ملتوی کرنے کے بڑھتے ہوئے واقعات نے اجلاس کی تعداد کے ساتھ ساتھ مقننہ کی نتیجہ خیزی میں بھی کمی کی ہے ۔لوک سبھا کے اسپیکر نے امید ظاہر کی کہ مقننہ کو تعمیری، بامعنی اور گہرائی سے بات چیت اور مکالمے کے متحرک مراکز کے طور پر کام کرنا چاہیے اور ایوان کا وقت عوام کی فلاح و بہبود کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پارلیمنٹ اور اسمبلیوں میں مسلسل افراتفری اور خلل کی وجہ سے یہ ادارے غیر فعال ہو جاتے ہیں جس سے وہ لوگوں کے مسائل حل کرنے میں ناکام ہو جاتے ہیں۔ اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ پارلیمنٹ کے وقار کو برقرار رکھنے کے لیے دو بنیادی تقاضے ہیں – خود نظام کی سالمیت اور اسے چلانے والے لوگوں کی سالمیت،مسٹر برلا نے کہا کہ مقننہ میں نظم و ضبط اور شائستگی کا فقدان اور اراکین کے غیر اخلاقی طرز عمل سے مقننہ اداروں کی سالمیت کو نقصان پہنچ رہا ہے ، ان کا وقار کم ہو رہا ہے جس سے جمہوریت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ا سپیکر نے یہ بھی کہا کہ مقننہ کے کام میں رکاوٹیں ڈالنا اور ان کا امیج خراب کرنا جمہوری نظام کے مستقبل کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے ۔مسٹر برلا نے کہا کہ ہر عوامی نمائندہ قوم کی امیدوں اور امنگوں کا نگہبان ہوتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ عوام اپنے بہتر مستقبل کے لیے عوامی نمائندوں پر بہت اعتماد کرتے ہیں ۔ انہوں نے عوامی نمائندوں پر زور دیا کہ وہ تعمیری انداز میں اور پورے جوش و جذبے کے ساتھ عوام کے مطالبات اور توقعات کو پورا کریں نہ کہاجلاس میں خلل ڈال کر یا دھرنا یا ستیہ گرہ کر کے ۔ مسٹر برلا نے اس بات پر زور دیا کہ قانون ساز اداروں میں ایم ایل اے کا طرز عمل ہمیشہ اعلیٰ معیار، نظم و ضبط اور مہذب ہونا چاہیے ، جس کے لیے تمام فریقین کی سنجیدہ کوششوں کی ضرورت ہے ۔لوک سبھا کے اسپیکر نے کہا کہ مدھیہ پردیش کے عوام کی طرف سے نومنتخب ایم ایل اے کو ملنے والے مینڈیٹ نے انہیں لوگوں بالخصوص خواتین اور کمزور طبقات کی سماجی و اقتصادی ترقی کے لیے تعمیری کوششیں کرنے کی ذمہ داری دی ہے۔ لہٰذا اراکین اسمبلی کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی خواہشات، توقعات کو پورا کریں اور اپنے خوابوں کو حقیقت بنائیں۔ مسٹر برلا نے یہ بھی کہا کہ ایم ایل اے اور عوامی نمائندوں کے طور پر اپنے کردار کے ساتھ مکمل انصاف کرنے کے لیے انہیں ایوان کے قواعد و ضوابط کی اچھی جانکاری ہونی چاہیے ۔ مسٹر برلا نے کہا کہ قواعد و ضوابط کی صحیح سمجھ انہیں موثر قانون ساز بنائے گی۔












