آچاریہ پرمودکرشنم نے اپنے دیے گئے ایک بیان میں کہا پرینکا گاندھی سب سے مقبول لیڈر پھر بھی انھیں سائڈ لائن کیا گیا
آچاریہ پرمود کرشنم نے اور کیا کہا
کانگریس کی پونجی کو ختم کرنے کی کوشش جاری
راہل گاندھی کو ادھر اور ادھر گھمایا جا رہا ہے
پرینکا گاندھی کے لیٹر پر غلط بیانی کی گئی
جنرل سکریٹری وتھ آوٹ پورٹ فولیو لکھا گیا
ممتاز عالم رضوی
نئی دہلی : سماج نیوزسروس:کانگریس میں سب کچھ ٹھیک نہیں چل رہا ہے ۔ عام انتخابات 2024؍میں بی جے پی کو شکست دینے کے لیے دن رات کوشش کرنے والے سونیا گاندھی ،راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی کے خلاف کچھ کانگریسی ہی سازش کر رہے ہیں۔اس کا انکشاف کانگریس کے سینئر لیڈر اور پرینکا گاندھی کے سیاسی مشیر آچاریہ پرمود کرشنم نے کیا۔ انھوں نے اپنے ایک ریکارڈیڈ بیان میں کہا کہ کانگریس میں ایک ایسا دھڑا ہے جو کانگریس فیملی کو سائڈ لائن کرنا چاہتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ پرینکا گاندھی کو سائڈ کر دیا ہے اور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ انھوں نے کہا کہ کیا پرینکا گاندھی سے بڑا کوئی مقبول لیڈر ہے ؟انھوں نے کہا کہ جب پرینکا گاندھی کے لیے لیٹر جاری کیا گیا تو ان کے آگے لکھا گیا کہ’’ پرینکا گاندھی جنرل سکریٹری وتھ آوٹ اینی پورٹ فولیو‘‘ ۔آچاریہ پرمود کرشنم نے سوال کیا کہ آخر یہ لکھنے والے کون ہیں ؟ یہ پرینکا گاندھی کی توہین نہیں ہے تو اور کیا ہے ؟دوسرا یہ کہ راہل گاندھی کو دن رات ادھر سے ادھر گھمایا جا رہا ہے ۔انھوں نے دعویٰ کیا ہے کہ کانگریس پارٹی پر ایک خاص قسم کے لوگوں کا قبضہ ہو گیا ہے جو کانگریس اور گاندھی فیملی کی جو پونجی ہے ختم کرنا چاہتے ہیں۔غور طلب بات یہ ہے کہ آچاریہ پرمود کرشنم نے یہ شدید الزامات اس وقت لگائے ہیں جب کانگریس نے منی پور سے ایک بار پھر بھارت جوڑو نیائے یاترا کا آغاز کیا ہے۔اس یاترا کو راہل گاندھی لیڈ کر رہے ہیں۔یہ یاترا عام انتخابات سے عین قبل شروع کی گئی ہے جو ممبئی میں اختتام پذیر ہوگی ۔اس یاترا میں پرینکا گاندھی دور دور تک نہیں ہیں ۔ حالانکہ انھوں نے اس یاترا کے سلسلہ میں ٹوئٹ ضرور کیا ہے ۔یہ بھی غور طلب ہے کہ پرینکا گاندھی کی حیثیت اور سیاسی سرگرمیوں کو لے کر پہلی مرتبہ آواز نہیں بلند ہوئی بلکہ اس سے پہلے بھی بلند ہوتی رہی ہے ۔ انھیں پی ایم چہرہ بنائے جانے کا بھی مطالبہ کیا جاتا رہا ہے ۔اس کے ساتھ ہی کانگریس کا صدر انھیں بنایا جائے یہ بھی مطالبہ رہا ہے لیکن اس پر کبھی توجہ نہیں دی گئی۔ پہلے جب پرینکا گاندھی کو جنرل سکریٹری بنایا گیا تو انھیں مکمل اتر پردیش نہیں بلکہ نصف اتر پردیش کا انچار ج بنایا گیا تھا اور نصف کی ذمہ داری جوئتر آدتیہ سندھیا کو سونپی گئی تھی ۔انھیں مشرقی اتر پردیش کی انچارج بنایا گیا تھا۔اس وقت بھی سوال اٹھا تھا کہ ایسا کیوں کیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی پرینکا گاندھی کو راجیہ سبھا بھی بھیجنے کی بات تھی لیکن وہاں بھی انھیں نہیں بھیجا گیا۔ دوسری طرف کانگریس کے صدر ملکا ارجن کھرگے نے راجیہ سبھا میں اپوزیشن کا عہدہ بھی نہیں چھوڑا اور اب وزیر اعظم کا امیدوار بننے کا خواب دیکھ رہے ہیں جبکہ ایک لیڈر ایک عہدہ کا دستور بنایا گیا تھا۔ اس کو لے کر بھی چہ می گوئیاں ہو رہی ہیں ۔جہاں تک آچاریہ پرمود کرشنم کا سوال ہے تو وہ کانگریس میں کچھ لوگوں کو مسلسل نشانہ بناتے رہے ہیں ۔کانگریس کی جانب سے پران پرتشٹھا میں نہ جانے کے فیصلے پر بھی آچاریہ پرمود کرشنم نے سوال اٹھایا تھا اور کہا تھا کہ یہ فیصلہ ٹھیک نہیں ہے ۔رام سب کے ہیں اور اس لیے سب کو وہاں جانا چاہئے ۔












