نئی دہلی :(پریس ریلیز )آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی مجلس عاملہ کا اجلاس حیدر آباد میں منعقد کیا گیا جس میں متھرا کی شاہی عیدگاہ ، وارانسی کی گیانواپی مسجد اورعبادت گاہوں سے متعلق ۱۹۹۱ء کے قانون سے متعلق مسائل کے علاوہ غزہ میں جاری جنگ سمیت موجودہ دیگر مسائل پر تشویش کا اظہارکیا۔ پریس ریلیز کے مطابق المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی مجلس عاملہ کا اجلاس منعقد ہوا، حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صدر بورڈ نے صدارت کی اور بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا محمد فضل الرحیم مجددی نے کارروائی چلائی، بورڈ کے نائب صدر جناب سید سعادت اللہ حسینی، بورڈ کے سکریٹریز مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی (مالیگاؤں)،مولانا احمد ولی فیصل رحمانی (بہار) ، مولانا ڈاکٹر یٰسین علی عثمانی(بدایوں)،بورڈ کے خازن پروفیسر ریاض عمر کے علاوہ صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا سید محمود اسعد مدنی، امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی، جسٹس سید شاہ محمد قادری، مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی، مولانا صغیر احمد رشادی، مولانا عتیق احمد بستوی، ممبر آف پارلیامنٹ جناب اسد الدین اویسی، مولانا نثار حسین حیدر آغا (فرقہ اثنا عشریہ)، مولانا محمد جعفر پاشا صاحب، مولانا مسعودحسین مجتہدی (فرقہ مہدویہ) ، سینئر ایڈوکیٹ یوسف حاتم مچھالہ، ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس، ترجمان(دہلی)، مولانا عبدالعلیم قاسمی (بھٹکل)، ڈاکٹر ظہیر آئی قاضی (ممبئی)، محمد طاہر حکیم ایڈوکیٹ( گجرات) کمال فاروقی (دہلی)، ضیاء الدین نیر، ڈاکٹر محمد مشتاق علی، مولانا سید اکبر نظام الدین، ڈاکٹر متین الدین قادری، جلیسہ سلطانہ یٰسین ایڈوکیٹ،عطیہ صدیقہ ، پروفیسر مونسہ بشریٰ عابدی ، محترمہ فاطمہ مظفر اور ملک بھر سے اہم شخصیات نے شرکت کی۔اجلاس میں درج ذیل تجاویز منظور کی گئیں۔ مجلس عاملہ کا اجلاس وارانسی کی گیان واپی مسجد، متھرا کی شاہی عید گاہ کے تعلق سے نچلی عدالتوں میں جو نئے تنازعات پیدا کئے گئے ہیں، اس کو تشویش کی نگاہ سے دیکھتا ہے، اجلاس کا احساس ہے کہ عبادت گاہوں سے متعلق ۱۹۹۱ء کے قانون کے ذریعہ ملک کی مقننہ نے ہر نئے تنازعہ کا دروازہ بند کر دیا تھا، اس اجلاس کو اس بات پر شدید تشویش ہے کہ سپریم کورٹ جس نے بابری مسجد کا فیصلہ دیتے وقت اس قانون کا حوالہ دے کر کہا تھا کہ اس کے ذریعہ ہر نئے تنازعہ کا راستہ بند کر دیا گیا ہے، وہی مسلمانوں کی متھرا اور کاشی سے متعلق اپیلوں کو نظر انداز کر رہا ہے، اگر ان چور دروازوں کو بند نہیں کیا گیا تو پھر اس بات کا اندیشہ ہے کہ شر پسند قوتیں ملک کے مختلف علاقوں میں نئے نئے فتنے اور تنازعات کھڑے کرتی رہیں گی۔ متھرا کی عیدگاہ کے متعلق ۱۹۶۸ء میں کرشنا جنم بھومی ٹرسٹ اور شاہی عیدگاہ ٹرسٹ کے درمیان ایک معاہدہ کے ذریعہ اس تنازعہ کو حل کر لیا گیا تھا، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ عدالت عظمیٰ سے یہ حسن ظن رکھتا ہے کہ وہ ان نئے فتنوں کا دروازہ بند کر کے ملک میں امن وامان اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنائے گا، اسی طرح دہلی کی سنہری مسجد کے تعلق سے این ڈی ایم سی نے ٹرافک کا بہا نہ کر اس کی شہادت کا جو ناپاک منصوبہ بنایا تھا، سرِ دست عدالت نے اس پر روک لگا دی ہے؛ تاہم اجلاس کا احساس ہے کہ سنہری مسجد اور لنٹن ژون میں دیگر ۶؍ مساجد شر پسندوں کے نشانے پر ہیں، بورڈ یہ واضح کر دینا ضروری سمجھتا ہے کہ یہ تمام مساجد اوقاف کی ان ۱۲۳؍ جائیدادوں میں شامل ہیں، جن پر عدالت نے اسٹے دے رکھا ہے، اسی طرح سنہری مسجد اور دیگر مساجد ہیری ٹیج تعمیرات میں بھی شامل ہے؛ لہٰذا اُن سے چھیڑ چھاڑ کرنا ملک کی تاریخی وراثت کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہوگا۔بورڈ کی مجلس عاملہ کا احساس ہے کہ فلسطین کا مسئلہ ایک انسانی مسئلہ ہے، جہاں اسرائیل کی شکل میں ایک غاصب قوت ملک کے اصل باشندوں کو جلا وطن کرنے پر تُلی ہوئی ہے ، اس نے جبروظلم کے تمام ریکارڈ توڑ دئیے ہیں، وہ مسلسل نسل کشی اور وحشیانہ مظالم کا ارتکاب کر رہا ہے۔












