نئی دہلی،/سماج نیوز سروس۔ سپریم کورٹ نے مہاراشٹر اسمبلی میں ایم ایل اے کی نااہلی کے معاملے پر اسمبلی اسپیکر کے فیصلے کو چیلنج کرنے والی شیوسینا ادھو ٹھاکرے دھڑے کی درخواست پر ایکناتھ شندے دھڑے کو نوٹس جاری کیا ہے۔ چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کی زیرقیادت بنچ نے اسپیکر کو دو ہفتے کے اندر جواب داخل کرنے کی ہدایت دی۔ادھو ٹھاکرے کے دھڑے نے مہاراشٹر اسمبلی کے ممبران اسمبلی کی نااہلی کے معاملے پر اسمبلی اسپیکر کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔ ادھو ٹھاکرے کے دھڑے نے سپریم کورٹ میں ایک عرضی دائر کی ہے جس میں مہاراشٹر اسمبلی کے اسپیکر کے شنڈے دھڑے کو حقیقی شیوسینا قرار دینے کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا ہے۔ درخواست میں شندے دھڑے کے 38 ایم ایل اے کو نااہل قرار دینے کی درخواستوں کو اسپیکر کے مسترد کیے جانے کو بھی سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے۔ مہاراشٹر اسمبلی کے اسپیکر نے 10 جنوری کو اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ جون 2022 میں شنڈے دھڑے کو 55 میں سے 37 ایم ایل اے کی حمایت حاصل تھی۔ ایسے میں سنیل پربھو کو پارٹی کا چیف وہپ نہیں مانا جا سکتا۔ ایسے میں سنیل پربھو کو شیوسینا لیجسلیچر پارٹی کی میٹنگ بلانے کا کوئی حق نہیں تھا۔ یہاں تک کہ واٹس ایپ کے ذریعے بلائی گئی میٹنگ میں 12 گھنٹے سے بھی کم وقت دیا گیا۔ اسپیکر نے کہا تھا کہ بھرت گوگاوالے کی بطور چیف وہپ اور ایکناتھ شندے کی لیجسلیچر پارٹی لیڈر کے طور پر تقرری درست ہے۔ادھو ٹھاکرے کے دھڑے نے 9 جنوری کو سپریم کورٹ میں حلف نامہ داخل کیا تھا، جس میں وزیر اعلی ایکناتھ شندے اور اسپیکر راہل نارویکر کے درمیان 7 جنوری کو ہونے والی ملاقات پر اعتراض کیا گیا تھا۔ حلف نامے میں کہا گیا کہ اسپیکر کا چیف منسٹر کی حمایت کرنے والے ایم ایل اے سے ان کی نااہلی کا فیصلہ دینے سے پہلے ملاقات کرنا غلط تھا۔












