پٹنہ، (یو این آئی) جنتا دل یونائیٹڈ (جے ڈی یو) نے بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار کی گورنر راجندر وشوناتھ آرلیکر سے ملاقات کے چند گھنٹے بعد آج الزام لگایا کہ مسٹر کمار کی ہر ممکن کوشش کے باوجود کانگریس اپوزیشن اتحاد انڈیا کی مضبوطی کیلئے قیادت کرنے میں پوری طرح ناکام رہی ہے ۔ جے ڈی یو کے قومی ترجمان اور وزیر اعلی کے سیاسی مشیر مسٹر کے سی تیاگی نے منگل کو یہاں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہ کانگریس انڈیااتحاد کی قیادت کرنے اور اسے طاقت دینے میں یقینی طور پر ناکام رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر کمار نے اگست 2022 میں قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے ) چھوڑنے کے بعد اعلیٰ رہنماو [؟]ں سے ملاقات کی تھی۔ تمام اپوزیشن جماعتوں نے مضبوط اتحاد بنانے کی کوشش کی۔ ساتھ ہی یہ بھی واضح کردیا کہ کانگریس کے بغیر ایسا کوئی اتحاد ممکن نہیں ہوگا۔ مسٹر تیاگی نے کہا، [؟]پانچ چھ ماہ بعد گذشتہ سال 23 جون کو پٹنہ میں اپوزیشن لیڈروں کی میٹنگ ہوئی اور اس کے بعد اگلی میٹنگ بنگلورو اور ممبئی میں ہوئی۔
ممبئی میں ہونے والی آخری میٹنگ کے بعد اگلے چار ماہ تک اپوزیشن لیڈروں کی طرف سے کوئی سرگرمی نظر نہیں آئی۔ انہوں نے کہا کہ تمام اعلیٰ اپوزیشن لیڈروں کی رضامندی سے یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ وزیر اعظم کے امیدوار کا فیصلہ لوک سبھا انتخابات کے بعد کیا جائے گا۔ لیکن، نئی دہلی میں انڈیا اتحاد کے اجلاس میں یہ عجیب بات تھی کہ مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے اچانک تجویز پیش کی کہ کانگریس کے صدر ملکارجن کھرگے کو لوک سبھا انتخابات کے لیے وزیر اعظم کے طور پر پیش کیا جانا چاہیے ۔ انہوں نے اس پر افسوس کا اظہار کیا لیکن مسز بنرجی کے خلاف کوئی تبصرہ کرنے سے گریز کیا، صرف یہ کہا کہ وہ ایک سینئر لیڈر ہیں۔ جے ڈی یو لیڈر نے کہا کہ مسٹرنتیش کمار ملک کے سرکردہ تین لیڈروں میں سے ایک ہیں اور اگر وہ کسی سے ملتے ہیں تو سیاسی معنی نکالنا فطری ہے ۔ انڈیااتحاد کی اتحادی جماعتوں میں سیٹوں کی تقسیم کے بارے میں انہوں نے کہا کہ بہار میں اس حوالے سے سب سے کم تنازعہ ہے جبکہ مغربی بنگال، پنجاب اور اتر پردیش میں زیادہ تنازعہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ مسٹر کمار کی اتحاد میں تمام مسائل کو جلد حتمی شکل دینے کی فکر کا مقصد اسے کمزور کرنا نہیں ہے بلکہ اسے مضبوط کرنا ہے ۔ قابل ذکر ہے کہ وزیراعلیٰ مسٹر کمار نے اپنے سینئر کابینی ساتھی وجے کمار چودھری کے ساتھ آج گورنر مسٹرآرلیکر سے ملاقات کی۔ اس کے بعد ایک بار پھر بہار میں سیاسی قیاس آرائیاں شروع ہوگئیں۔ انڈیااتحاد میں شامل حلقوں کے درمیان سیٹوں کی تقسیم پر تعطل برقرار ہے جس میں ہر ایک جماعت زیادہ سے زیادہ سیٹوں پر الیکشن لڑنے کی دعویدار ہے ۔












