گوہاٹی : /سماج نیوز سروس ۔راہل گاندھی کی قیادت والی بھارت جوڑو نیائے یاترا کو آسام پولیس نے گوہاٹی میں داخل ہونے سے روک دیا ہے۔ دراصل جب اس یاترا کے ساتھ چل رہے تقریباً 5000 کانگریس کارکنوں کو پولس نے روکا تو ان کی پولس سے جھڑپ ہوگئی۔ اس کے بعد کانگریس کارکنوں اور پولیس کے درمیان زبردست جھڑپ ہوگئی۔ پولیس نے اس معاملے میں راہل گاندھی کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کرلی ہے۔ آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنت بسو شرما نے پہلے بتایا کہ انہوں نے پولیس کے ڈائریکٹر جنرل کو ہدایت دی ہے کہ وہ راہل گاندھی کے خلاف ہجوم کو اکسانے کا مقدمہ درج کریں۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا : یہ آسامی ثقافت کا حصہ نہیں ہے۔ ہم ایک پرامن ریاست ہیں۔ اس طرح کے ‘نکسلی ہتھکنڈے’ ہماری ثقافت سے بالکل الگ ہیں۔ میں نے آسام پولس کے ڈی جی پی کو ہدایت دی ہے کہ راہل گاندھی کے خلاف ہجوم کو اکسانے کا مقدمہ درج کیا جائے۔ اپنے ہینڈل پر پوسٹ کئے گئے فوٹیج کو بطور ثبوت استعمال کریں۔ آپ کے بے قابو رویے اور متفقہ رہنما خطوط کی خلاف ورزی کے نتیجے میں اب گوہاٹی میں بڑے پیمانے پر ٹریفک جام ہو گیا ہے۔موصولہ اطلاعات کے مطابق جب راہل گاندھی کے قافلے کو گوہاٹی میں داخل ہونے سے روکا گیا تو کانگریس کارکنوں نے احتجاج کیا اور بیریکیڈنگ توڑ دیں۔ اس احتجاج کے دوران کانگریس کارکنوں نے نعرے بازی بھی کی۔ کانگریس کے حامیوں کو آگے بڑھنے سے روکنے کے لئے پولیس کو طاقت کا استعمال کرنا پڑا۔وزیراعلی شرما نے اس سے پہلے کہا تھا کہ سڑکوں پر جام سے بچنے کے لئے یاترا کو شہر میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ دریں اثنا بھارت جوڑو نیائے یاترا کے دوران کھاناپارہ کے گوہاٹی چوک پر ایک بہت بڑی بھیڑ جمع ہوگئی اور راہل گاندھی کا ڈھول بجا کر استقبال کیا گیا۔ کانگریس کی ریاستی یونٹ کے انچارج جتیندر سنگھ نے کہا، ‘ہم نے رکاوٹوں کو توڑ کر جیت حاصل کی ہے۔پیر کو میگھالیہ میں داخل ہونے کے بعد اس حصے میں یاترا اپنے آخری مرحلے کے لیے آسام واپس لوٹی، جو ریاست کے سب سے بڑے شہر گوہاٹی کے مضافات سے گزرے گی۔ آسام میں یاترا جمعرات تک جاری رہے گی۔












