مغربی بنگال میں ممتا بنرجی کے بعد اب پنجاب میں عام آدمی پارٹی نے بھی الگ الیکشن لڑنے کا اعلان کر دیا ، بہار میں بھی سب کچھ ٹھیک نہیں چل رہا ،اتر پردیش میں اب تک سیٹوں کی تقسیم پر تذبذب قائم
انڈیا اتحاد کی موجودہ صورت حال پر کس نے کیا کہا
بھگونت مان نے کہا 13؍سیٹیں ہم جیتیں گے
جے ڈی یو نے کہا کانگریس قیادت کے لائق نہیں
جے رام رمیش نے کہا ممتا کے بغیر انڈیا کا تصور نہیں
منوج جھا نے کہا تھوڑا انتظار کریں سب ٹھیک ہوگا
شرد پوار پارٹی نے کہا ممتا انڈیا اتحاد کا اہم جز ہیں
نئی دہلی :عام انتخابات 2024؍میں کامیابی کے لیے جد و جہد کرنے والی کانگریس پارٹی انڈیا اتحاد سے بے فکر سی ہو گئی ہے ۔انڈیا اتحاد ٹوٹ رہا ہے اور کانگریس بھارت جوڑو یاترا میں مصروف ہے ۔ مغربی بنگال میں ترنمول کانگریس پارٹی کی روح رواں اور وزیر اعلی ممتا بنرجی نے اتحاد کے ساتھ الیکشن لڑنے سے صاف انکار کر دیا ہے جو کانگریس اتحاد کے لیے بڑا جھٹکا ہے اور اس کے ٹھیک ایک دن بعد آج عام آدمی پارٹی پنجاب نے بھی تنہا الیکشن لڑنے کا اعلان کر دیا ۔ پنجاب کے وزیر اعلی بھگونت مان نے کہا کہ وہ کل 13؍سیٹوں پر الیکشن لڑیں گے اور کامیابی حاصل کریں گے ۔ ان دو صوبوں کے بعد بہار سے بھی انڈیا اتحاد کے لیے کوئی اچھی خبر نہیں ہے کیونکہ جنتا دل یونائٹیڈ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ کانگریس میں انڈیا اتحاد کی قیادت کرنے کی صلاحیت نہیں ہے ۔ اس بیان سے ہلچل تیز ہو گئی ہے اور سوال اٹھ رہے ہیں کہ کیا جے ڈی یو ایک بار پھر این ڈی اے میں شامل ہوگی ۔حالانکہ جے ڈی یو کی جانب سے اس قسم کی کسی بھی بات کا صاف انکار کر دیا ہے تاہم حالات اچھے نہیں نظر آ رہے ہیں ۔ اس کے علاوہ اتر پردیش میں بھی حالات بہتر نہیں نظر آ رہے ہیں کیونکہ ابھی تک یہاں سیٹوں کی تقسیم نہیں ہو سکی ۔ یاد ہوگا کہ پہلے 31؍دسمبر تک سیٹوں کی تقسیم کا کام مکمل کرنے کی بات کہی گئی تھی لیکن یہ کام نہیں ہو سکا تھا ، اس کے بعد انڈیا اتحاد کی اس مسئلہ پر میٹنگ ہوئی اور نتیجہ نکلا کہ جلد ہی سیٹوں کی تقسیم ہو جائے گی لیکن آج تک اس پر بات نہیں ہو سکی ۔ انڈیا اتحاد کی میٹنگ میں یہ فیصلہ لیا گیا تھا کہ 450؍سیٹوں پر ایک کے سامنے ایک امیدوار ہوگا اور اس طرح بی جے پی کو شکست دینے کا کام کیا جائے گالیکن ابھی تک اس پر کوئی فیصلہ نہیں ہو سکا ۔ کانگریس جو قیادت کا دعویٰ کر رہی ہے وہ فی الحال اس معاملہ میں خاموش نظر آ رہی ہے ۔ میٹنگ میں یہ بھی طے پایا تھا کہ انڈیا اتحاد کا دہلی میں ایک سینٹرل سکریٹریٹ بھی قائم کیا جائے گا لیکن اس کا بھی کہیں کوئی پتہ نہیں ہے ۔ انڈیا اتحاد کی سابقہ میٹنگ میں بطور وزیر اعظم امیدوار ملکا ارجن کھرگے کا نام پیش کرنے والی ممتا بنرجی اور کیجریوال نے ہی سب سے پہلے خود کو الگ کر لیا ، ایسا کیوں ہوا یہ بھی سمجھ سے باہر ہے ۔انڈیا اتحاد کی آن لائن میٹنگ میں انڈیا اتحاد کا چیئر پرسن کھرگے کو اور کنوینر نتیش کمار کو بنانے کی بات آئی لیکن نتیش کمار نے کنوینر بننے سے انکار کر دیا ۔اس کے بعد چہ می گوئیاں شرو ع ہو گئی تھیں ۔ اس کے ساتھ ہی جب نتیش کمار نے اپنے تمام اراکین اسمبلی اور اراکین کونسل کو پٹنہ میں رکنے کی ہدایت دی تو بھی ہنگامہ برپا ہو گیا تھا ۔ ہنگامہ آرائی کے درمیان آر جے ڈی کے صدر لالو پرسادیادو اور نائب وزیر اعلی تیجسوی یادو نے نتیش کمار سے ہنگامی ملاقات کی تھی ۔ ملاقات کے بعد لالو یادو تو خاموش رہے لیکن تیجسوی یادو نے یقین دہانی کرائی کہ گٹھ بندھن کو فی الحال کوئی خطرہ نہیں ہے ۔ ان سب ہنگامہ آرائیوں پر کانگریس اعلی قیادت خاموش نظر آ رہی ہے تاہم کانگریس کے میڈیا انچارج جے رام رمیش نے کہا کہ ممتا بنرجی کے بغیر انڈیا اتحاد کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا لیکن بنگال میں ادھیر رنجن چودھیری کو روکنے میں وہ بھی ناکام ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ سیٹوں کی تقسیم کو لے کر بات چیت چل رہی ہے جلد نتیجہ سامنے آ جائے گا ۔کل ہماری یاترا بنگال میں داخل ہو رہی ہے اور تب ہم اس پر بات کریں گے۔شردپوار کی جانب سے کہاگیا کہ انڈیا اتحاد کا اہم حصہ ہیں ممتا بنرجی۔آر جے ڈی کے رکن پارلیمنٹ منوج جھا نے کہا کہ ابھی تھوڑا انتظار کرنا چاہئے ۔اگر کوئی ٹکرائو ہے تو انڈیا اتحاد اس کو سلجھا لے گا ۔












