نئی دہلی،(یو این آئی) دفاعی تحقیق و ترقی کی تنظیم ( ڈی آر ڈی او ) کی طرف سے تیار کردہ بہت سے اہم نظام /ٹیکنالوجیز کو 26 جنوری ، 2024 ء کو کرتویہ پَتھ پر 75ویں یوم جمہوریہ کی پریڈ کے دوران دکھایا جائے گا۔ آتم نربھرتا کے حصول کے لیے ڈی آر ڈی او کی دفاعی تحقیق کے بنیادی شعبوں میں خاتون سائنس دانوں کا گرانقدر تعاون بہت اہم رہا ہے ۔ ڈی آر ڈی او کی جھانکی کی تھیم زمین ، فضاء ، سمندر ، سائبر اور خلاء پانچ جہتوں میں دفاعی ڈھال فراہم کرکے ملک کے تحفظ میں ‘‘ خواتین کا رول ’’ پر مبنی ہے ۔جھانکی میں دفاعی تحقیق و ترقی میں خواتین کی شمولیت کو نمایاں طور پر اجاگر کیا جائے گا۔ ممتاز سائنسدان محترمہ سنیتا دیوی جینا دستے کی کمانڈر ہوں گی۔ اس جھانکی میں مین پورٹ ایبل اینٹی ٹینک گائیڈڈ میزائل ( ایم پی اے ٹی جی ایم ) ، اینٹی سیٹلائٹ ( اے ایس اے ٹی ) میزائل اور اگنی-5، زمین سے سطح پر مار کرنے والے بیلسٹک میزائل، بہت مختصر فاصلے کے ایئر ڈیفنس سسٹم ( وی ایس ایچ او آر اے ڈی ایس ) ، بحریہ کے اینٹی شپ میزائل [؟]مختصر رینج ( این اے ایس ایم [؟] ایس آر ) ، ٹینک شکن گائیڈڈ میزائل ’ ہیلینا ‘ ، کوئیک ری ایکشن سرفیس ٹو ایئر میزائل (کیو آر ایس اے ایم ) ، اَستر، ہلکے جنگی طیارے ’ تیجس ‘ ، ’ اتم ‘ ایکٹو الیکٹرانک طور پر اسکین شدہ ایری راڈار ( اے ای ایس اے آر ) ، جدید الیکٹرانک جنگی نظام ’ شکتی ‘ ، سائبر سکیورٹی سسٹمز، کمان کنٹرول کے نظام اور سیمی کنڈکٹر فیبریکیشن فیسلیٹی کی نمائش کی جائے گی ۔مشن شکتی میں استعمال ہونے والا اینٹی سیٹلائٹ ( اے ایس اے ٹی ) میزائل ملک کی اینٹی سیٹلائٹ ٹیکنالوجی اور درست حملہ کرنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کرنے میں ایک اہم پیش رفت ہے ۔ ہندوستان اس طرح کی خصوصی اور جدید صلاحیت حاصل کرنے والا دنیا کا چوتھا ملک ہے ۔ اگنی-5 سطح سے سطح پر مار کرنے والا بیلسٹک میزائل ہے ، جو اعلیٰ درجے کی درستگی کے ساتھ اپنے اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ملک میں تیار کردہ ایم پی اے ٹی جی ایم تیسری نسل کا اے ٹی جی ایم ہے ، جو ’ فائر اینڈ فارگیٹ ‘ ، ’ ٹاپ اٹیک ‘ اور رات میں حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ اسے تھرمل سائٹ کے ساتھ مربوط کرکے ایک مین پورٹیبل لانچر سے داغا جا سکتا ہے ۔ این اے ایس ایم [؟] ایس آر پہلا دیسی فضاء سے مار کرنے والا اینٹی شپ میزائل سسٹم ہے ۔ وی ایس ایچ او آر اے ڈی ایس ایک مین پورٹیبل ایئر ڈیفنس سسٹم ہے ، جو کم اونچائی والے فضائی خطرات کو کم فاصلے پر بے اثر کر سکتا ہے ۔ ہیلی کاپٹر سے مار کرنے والا ناگ تیسری نسل کا ٹینک شکن گائیڈڈ میزائل ہے ، جو براہ راست ہدف پر مار کرنے کے ساتھ ساتھ ٹاپ اٹیک موڈ میں بھی اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے ۔ اس سسٹم میں ہر موسم میں دن اور رات میں کام کرنے کی صلاحیت موجود ہے اور یہ روایتی اور دھماکہ خیز ری ایکٹیو بکتر بند جنگی ٹینکوں کو تباہ کر سکتا ہے ۔کیو آر ایس اے ایم ہر موسم میں کام کرنے والا فضائی دفاعی نظام ہے ، جو ٹیکٹیکل بیٹل ایریا میں بھارتی فوج کے مشینی اثاثوں کو موبائل ایئر ڈیفنس کور فراہم کرتا ہے ۔ اَستر ، ایک جدید ترین بصری رینج سے باہر ، ہوا سے ہوا میں مار کرنے والا میزائل ہے ، جو سپرسونک فضائی اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے اور تباہ کر سکتا ہے ۔ایل سی اے تیجس مقامی طور پر تیار کیا گیا ہلکے وزن کا اور ملٹی رول 4+ جنریشن ٹیکٹیکل لڑاکا طیارہ ہے ، جو لیزر گائیڈڈ بم اور جدید میزائل لے کر ہدف کو انتہائی نقصان پہنچا سکتا ہے ۔ اتم ایکٹیو الیکٹرانکلی اسکینڈ ایرے راڈار ( اے ای ایس اے آر ) ایک ملٹی موڈ، سالڈ اسٹیٹ ایکٹیو فیزڈ ایرے فائر کنٹرول راڈار ہے ، جسے مختلف قسم کے جنگی طیاروں کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے ۔ ایڈوانسڈ الیکٹرانک وارفیئر ( ای ڈبلیو ) سسٹم ’ شکتی ‘ کو ،ہندوستانی بحریہ کے لیے روایتی اور جدید راڈاروں کی روک تھام، پتہ لگانے ، درجہ بندی، شناخت اور جام کرنے کے لیے ڈیزائن اور تیار کیا گیا ہے ۔ڈی آر ڈی او کی طرف سے تیار کردہ بہت سے دوسرے سسٹمز/ٹیکنالوجیز کو بھی مسلح افواج کے مختلف دستوں میں کرتَویہ پَتھ پر دکھایا جائے گا۔ اس میں پناکا، ناگ میزائل سسٹم، موبائل بریجنگ سسٹم ’ سروَترا ‘ ، میڈیم رینج سرفیس ٹو ایئر میزائل (ایم آر ایس اے ایم)، ویپن لوکیٹنگ راڈار ’ سواتی ‘ وغیرہ شامل ہیں۔ ہندوستانی فضائیہ کے فلائی پاسٹ میں ڈی آر ڈی او کے تیار کردہ ایل سی اے تیجس اور اے ای ڈبلیو اینڈ سی شامل ہوں گے ۔ڈی آر ڈی او ’ آتم نربھر بھارت ‘ کے جذبے کو تقویت دینے اور مسلح افواج کے لیے ایک ڈیزائن اور ترقی کا ادارہ ہے اور ، یہ دفاعی ماحولیاتی نظام کے تمام متعلقہ فریقین کے ساتھ اشتراک کر تا ہے ، جس میں تعلیمی ادارے ، صنعت، ایم ایس ایم ایز ، اسٹارٹ اپس اور جدید دفاعی نظام تیار کرنے کی خدمات شامل ہیں۔












