نئی دہلی /سماج نیوز سروس ۔کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا کے قریبی سمجھے جانے والے آچاریہ پرمود کرشنم نے گذشتہ روز وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کی ہے جس پر قیاس آرائیاں شروع ہو چکی ہیں ۔تاہم اس بارے میں آچاریہ پرمود یا بی جے پی کی طرف سے طور پر کچھ نہیں کہا گیا ہے۔ قیاس آرائی کرنے والوں کے پاس متعدد دلائل ہیں ۔جس میں اہم یہ ہے کہ انہوں نے کانگریس قائدین کی جانب سے رام مندر پران پر تشٹھا تقریب کے لئے دعوت نامے کو مسترد کرنے پر ناراضگی کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے راہل گاندھی کے دورے کو سیاحت بھی قرار دیا ہے۔دراصل جمعرات کو آچاریہ پرمود نے پی ایم مودی کے ساتھ اپنی ملاقات کی ایک تصویر شیئر کی ہے جس کے مطابق وہ پی ایم مودی کو شری کالکی دھام کے پروگرام میں مدعو کرنے گئے تھے۔ انہوں نے لکھا، ‘مجھے 19 فروری کو منعقدہ ‘شری کالکی دھام کے سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب میں ہندوستان کے نامور وزیر اعظم، نریندر مودی جی کو مدعو کرنے کا اعزاز حاصل ہوا۔ میں ان کا تہہ دل سے مشکور و ممنون ہوں۔ ساتھ ہی قیاس آرائیوں کے درمیان انہوں نے لکھا ہے کہ ‘طوفان بھی آئے گااس پر پی ایم مودی نے بھی جواب دیا ہے۔ انھوں نے لکھا، ‘یہ میرے لیے اعزاز کی بات ہے کہ میں ایمان اور عقیدت سے متعلق اس پرمسرت موقع کا حصہ بنونگا۔ دعوت کے لیے آپ کا تہہ دل سے شکریہ، آچاریہ پرمود کرشنم جی۔ اس پر پرمود کرشنم نے جواب دیتے ہوئے لکھا ، ‘بھگوان، سنبھل کی مقدس سرزمین، شری ہری وشنو کے ‘داور بھگوان شری کالکی نارائن کے آخری اوتار کے اترنے کی جگہ پر آپ کا استقبال ہے۔پی ایم مودی کی ستائش۔واضح ہو کہ کانگریس کے سرکردہ لیڈروں نے 22 جنوری کو ایودھیا میں ہونے والی رام مندر پران پرتیستھا کی تقریب میں شرکت کی دعوت کو ٹھکرا دیا تھا۔ جبکہ آچاریہ پرمود نے پروگرام میں شرکت کی تھی۔ انہوں نے رام مندر کی تعمیر کا کریڈٹ بھی پی ایم مودی کو دیا۔ انہوں نے کہا تھا، ‘مندر کی تعمیر عدالت کے فیصلے کے مطابق ہوئی ہے… سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا اور بھگوان شری رام کی جائے پیدائش پر مندر کی تعمیر شروع ہو گئی اور کل اس کی تقدیس بھی ہو گئی ۔انہوں نے مزید کہا تھا کہ اگر مودی وزیر اعظم نہ ہوتے تو یہ فیصلہ نہ ہوتا اور یہ مندر نہ بنتا….میں تعمیر کے اس مبارک دن کا کریڈٹ وزیر اعظم مودی کو دینا چاہتا ہوں۔اس کے علاوہ بھی آچاریہ پرمود کرشنم کانگریس میں رہتے ہوئے بھی کانگریس پر حملے کر رہے ہیں ۔ابھی حال ہی میں انہوں نے بہار کے سی ایم نتیش کمار کی این ڈی اے میں واپسی پر اپوزیشن اتحاد انڈیا کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ انڈیا اتحاد شروع سے ہی ایک سنگین بیماری سے متاثر ہے۔ اور اب تو وہ آئی سی یو میں چلی گئی۔ اور اب اسے وینٹی لیٹر پر ڈال دیا گیا ہے ۔ کل نتیش کمار نے اپنے طور پر آخری رسومات بھی ادا کر دی ۔ اب انڈیا کے اتحاد کا کیا ہوگا؟کانگریس لیڈر نے راہل گاندھی کی بھارت جوڑو نیائے یاترا کو بھی سیاحت قرار دیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا، ‘ہمارے پاس کانگریس پارٹی میں اتنے بڑے اور ذہین لیڈر ہیں۔ ایک طرف ملک کی 2024 کی مہابھارت تیار ہو رہی ہے تو دوسری طرف پارٹی سیاسی سیاحت کر رہی ہے۔ دراصل ہم 2024 کے بعد سوچیں گے کہ 2024 میں کیسے جیتنا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ہم 2029 کے لوک سبھا انتخابات کے لیے خود کو تیار کر رہے ہیں۔ اگر ہم 2024 کی تیاری کر رہے ہوتے تو ایسا نہ ہوتا۔واضح ہو کہ آچاریہ پرمود کرشنم نے کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھرگے، رائے بریلی کی رکن پارلیمنٹ سونیا گاندھی اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف ادھیر رنجن چودھری نے رام مندر پران پرتیشتھا پروگرام کی دعوت کو ٹھکرا دیا تھا۔اور اس پر تبصرہ کرتے ہوئے آچاریہ پرمود نے کہا تھا، ‘کانگریس رام مخالف نہیں ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ایسا فیصلہ لینے میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔ یہ بہت سنجیدہ موضوع ہے۔ آج میرا دل ٹوٹ گیا ہے۔ اور اس فیصلے نے کانگریس کے کروڑوں کارکنوں کے دل توڑ دیئے ہیں، ان لیڈروں کا جو بھگوان رام پر یقین رکھتے ہیں۔انہوں نے کہا، ‘کانگریس وہ پارٹی ہے جو مہاتما گاندھی کے راستے پر چلتی ہے۔ مندر کے تالے کھولنے کا کام کانگریس لیڈر راجیو گاندھی نے ہی کیا تھا۔بھگوان شری رام کے مندر کی دعوت کو قبول نہ کرنا افسوسناک بھی ہے، اور تکلیف دہ بھی ہے، گزشتہ سال مدھیہ پردیش، راجستھان اور چھتیس گڑھ میں کانگریس کے انتخابات ہارنے کے بعد بھی انہوں نے کانگریس کا نام لیے بغیر اس پر طنز کیا۔ اس نے لکھا تھا، ‘سناتن کی لعنت سے ڈوب گیا۔ 2018 میں، کانگریس نے ان تینوں ریاستوں میں جیت کر حکومت بنائی تھی، لیکن 2020 میں ایم پی، راجستھان اور 2020 اور 2023 میں چھتیس گڑھ میں سی ایم کا عہدہ کھو دیا تھا۔












