ماسکو (ہ س)۔ روسی فوج کے سربراہ جنرل اولیگ سالیوکوف کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ یوکرین اور روس کے درمیان امن مذاکرات میں اتار چڑھاو کے درمیان اس ڈرامائی تبدیلی کو روس کے ساتھ ساتھ دیگر مغربی ممالک کے اخبارات میں بھی نمایاں طور پر زیر بحث لایا گیا ہے۔ ماسکو ٹائمز نے رپورٹ کیا کہ اولیگ سالیوکوف روسی صدر ولادیمیر پوتن کے دیرینہ ساتھی ہیں۔ انہوں نے ہی انہیں آرمی چیف کے عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کیا۔ پوتن کا یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب روس یوکرین جنگ اور فوجی حکمت عملی پر بین الاقوامی دباو ہے۔ سالیوکوف 2014 سے آرمی چیف تھے، اب انہیں روسی سلامتی کونسل میں ڈپٹی سکریٹری کے عہدے پر تعینات کیا گیا ہے۔جنرل سالیوکوف کا دور جدید ہتھیاروں کی شمولیت اور اسٹریٹجک اصلاحات کے لیے قابل ذکر ہے۔ 2024 میں یوکرین کے کرسک علاقے میں ہونے والے اچانک حملے نے روس کی سرحدوں کی حفاظت کے بارے میں کئی سوالات کو جنم دیا۔ اس واقعے کے بعد پوتن پر اپنی زمینی حکمت عملی تبدیل کرنے کے لیے دباو بڑھ گیا۔ فی الحال یہ اعلان نہیں کیا گیا ہے کہ کون سا فوجی افسر سالیوکوف کی جگہ لے گا۔وزارت دفاع میں اس تبدیلی کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ ابھی چند روز قبل اقتصادی ماہر آندریئی بیلوسوف کو وزیر دفاع سرگئی شوئیگو کی جگہ نیا وزیر دفاع مقرر کیا گیا ہے۔












