نئی دہلی ،پریس ریلیز،ہماراسماج: عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے جج سوارنا کانتا شرما کی عدالت میں چل رہے اپنے مقدمے میں نہ پیش ہونے اور نہ ہی کوئی دلیل دینے کا بڑا فیصلہ کیا ہے۔ پیر کے روز انہوں نے یہ اطلاع دیتے ہوئے کہا کہ جسٹس سوارنا کانتا شرما سے انصاف ملنے کی میری امید ختم ہو چکی ہے۔ اس لیے اپنی ضمیر کی آواز سن کر، گاندھی جی کے اصولوں کو مانتے ہوئے اور ستیہ گرہ کی روح کے ساتھ، میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں اس کیس میں ان کے سامنے پیش نہیں ہوں گا اور نہ ہی کوئی دلیل پیش کروں گا۔ اس سلسلے میں میں نے انہیں ایک خط لکھ کر بھی مطلع کر دیا ہے۔ اروند کیجریوال نے کہا کہ میں نے مفادات کے ٹکراؤ کے سبب جج سوارنا کانتا شرما سے درخواست کی تھی کہ وہ میرے کیس سے خود کو الگ کر لیں، لیکن انہوں نے خود ہی اس کیس کو سننے کا فیصلہ کیا۔ اس کیس میں جسٹس سوارنا کانتا شرما جو بھی فیصلہ سنائیں گی، اس پر میں اپنے قانونی حقوق استعمال کرنے کے لیے آزاد ہوں۔ ساتھ ہی انہوں نے واضح کیا کہ مجھے عدلیہ پر مکمل بھروسہ ہے اور میں اس کا احترام کرتا ہوں، کیونکہ جب میرے خلاف سازشیں ہوئیں تو عدلیہ نے ہی مجھے بے قصور قرار دے کر انصاف دیا۔ اروند کیجریوال نے کہا کہ زندگی میں کئی بار ایسے مواقع آتے ہیں جب جیت یا ہار اہم نہیں رہتی بلکہ صحیح اور غلط کا سوال بڑا ہو جاتا ہے۔ ایسے وقت میں یہ طے کرنا ہوتا ہے کہ ہم مشکل راستہ اختیار کریں یا آسان راستہ۔ آج میں بھی ایسے ہی ایک موڑ پر کھڑا ہوں۔ سب جانتے ہیں کہ مجھے ایک جھوٹے کیس میں پھنسایا گیا،مجھے جیل بھیجا گیا، ایک منتخب حکومت کو غلط طریقے سے گرا دیا گیا۔ ہمیں کئی مہینوں تک جیل میں رکھا گیا، لیکن آخرکار سچ کی جیت ہوئی۔ 27 فروری کو عدالت نے مجھے مکمل طور پر بے قصور قرار دیا اور کہا کہ کیجریوال نے کوئی بدعنوانی نہیں کی۔انہوں نے مزید کہا کہ عدالت نے سی بی آئی کی تفتیش پر بھی سوال اٹھائے اور تفتیشی افسر کے خلاف کارروائی کے احکامات دیے۔ لیکن سچ کا راستہ آسان نہیں ہوتا۔ سی بی آئی نے فوراً اس فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا اور یہ کیس جسٹس سوارنا کانتا شرما کے سامنے آ گیا۔ تب میرے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوا کہ کیا مجھے ان کے سامنے انصاف ملے گا؟ کیجریوال نے کہا کہ اس کے دو بڑے اسباب ہیں۔ پہلا یہ کہ جس نظریے کی حکومت نے مجھے جھوٹے الزامات میں جیل بھیجا، جج صاحبہ خود مان چکی ہیں کہ وہ اسی نظریے سے وابستہ تنظیم اکھل بھارتیہ ادھیوکتا پریشد کے پروگراموں میں شرکت کرتی رہی ہیں۔ ہم اور عام آدمی پارٹی اس نظریے کے سخت مخالف ہیں، ایسے میں کیا مجھے ان کے سامنے انصاف مل سکتا ہے؟انہوں نے کہا کہ دوسرا سبب مفادات کا ٹکراؤ ہے۔ میرے خلاف عدالت میں مرکزی حکومت کی سی بی آئی ہے اور جسٹس سوارنا کانتا شرما کے دونوں بچے مرکزی حکومت کے وکلاء کے پینل میں شامل ہیں۔ سالیسٹر جنرل تشار مہتا ان وکلاء کو کیس دیتے ہیں۔ تقریباً 700 وکلاء کے اس پینل میں ان کے بیٹے کو سب سے زیادہ کیس ملنے والوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ 2023 سے 2025 کے درمیان انہیں تقریباً 5904 کیس ملے، جس سے انہیں کروڑوں روپے کی فیس ملی۔ ایسے میں یہ فطری سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا جج صاحبہ اس وکیل کے خلاف فیصلہ دے سکیں گی جس پر ان کے بچوں کے مستقبل اور آمدنی کا دارومدار ہے؟ اروند کیجریوال نے کہا کہ میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ مجھے عدلیہ پر مکمل اعتماد ہے اور میں اس کا بہت احترام کرتا ہوں۔ جب میرے خلاف جھوٹے مقدمات بنائے گئے تو اسی عدلیہ نے مجھے ضمانت دی اور بعد میں بے قصور بھی قرار دیا۔ گزشتہ 75 برسوں میں جب بھی ملک پر کوئی آنچ آئی، عدلیہ نے ملک اور شہریوں کے حقوق کا تحفظ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں جسٹس سوارنا کانتا شرما کا بھی بہت احترام کرتا ہوں اور مجھے ان سے یا ان کے خاندان سے کوئی ذاتی اعتراض نہیں ہے۔ لیکن انصاف کا ایک اہم اصول ہے کہ انصاف نہ صرف ہونا چاہیے بلکہ ہوتا ہوا نظر بھی آنا چاہیے۔ اسی لیے میں نے ان سے مودبانہ درخواست کی تھی کہ وہ مفادات کے ٹکراؤ کی بنیاد پر اس کیس سے خود کو الگ کر لیں، لیکن انہوں نے میری درخواست مسترد کر دی۔ کیجریوال نے کہا کہ میرے سامنے سب سے آسان راستہ یہ تھا کہ میں ان کے حکم کو مان لیتا اور ایک بڑے وکیل کے ذریعے اپنا مقدمہ لڑتا، لیکن یہ مسئلہ اب صرف میرے کیس کا نہیں بلکہ عوام کے عدالتی نظام پر اعتماد کا ہے۔ ایسے مواقع پر باپو نے ہمیں ستیہ گرہ کا راستہ دکھایا ہے۔ میں نے بھی اسی راستے پر چلتے ہوئے پہلے بات چیت کی، اپنی بات نہایت شائستگی سے رکھی، لیکن جب کوئی حل نہ نکلا تو اب میں ستیہ گرہ کے جذبے کے تحت یہ قدم اٹھا رہا ہوں۔انہوں نے کہا کہ اب میں اس کیس میں نہ تو خود عدالت میں پیش ہوں گا اور نہ ہی میری طرف سے کوئی وکیل پیش ہوگا۔ تاہم جسٹس سوارنا کانتا شرما جو بھی فیصلہ دیں گی، اس کے خلاف میں اپنے قانونی حقوق، جیسے سپریم کورٹ سے رجوع کرنا، استعمال کرنے کے لیے آزاد ہوں۔












