واشنگٹن(ہ س)۔ امریکی انتظامیہ کو امید ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے روسی ہم منصب ولادیمیر پوتن کے درمیان بہت جلد ملاقات ہوگی۔ امریکی صدر کے نائب معاون اور انسداد دہشت گردی کے سینئر ڈائریکٹر سیباسٹین گورکا بھی ایسا ہی مانتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سودے اور معاہدے ہوتے رہتے ہیں۔ صدر ٹرمپ اور پوتن کی ملاقات کا صحیح وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے یہ اعلان پولیٹیکو اخبار کے زیراہتمام منعقدہ بین الاقوامی سیکورٹی کانفرنس میں کیا۔روس کی سرکاری خبر رساں ایجنسی تاس نے اس بین الاقوامی سیکورٹی کانفرنس کی اپنی رپورٹ میں یہ معلومات دی۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ سیباسٹین گورکا نے اس حوالے سے پوچھے گئے دیگر سوالات کے مبہم جوابات دیئے۔ گورکا نے کہا کہ کوئی بھی اسے سوالوں میں الجھا نہیں سکتا۔ ان سے سوال پوچھا گیا کہ کیا ٹرمپ استنبول میں روس -یوکرین مذاکرات میں شرکت کا ارادہ رکھتے ہیں؟ وائٹ ہاؤس کے اس اہلکار نے دو ٹوک جواب دیا، ’’نہیں‘‘۔گورکا نے کہا کہ ہمیں اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ اس میں شامل تمام فریقین کی طرف سے کوئی ضدی رویہ نہ ہولیکن آپ مطمئن ہو سکتے ہیں کہ جب معاہدہ طے پا جائے گا تو صدر ٹرمپ وہاں موجود ہوں گے۔ کریمیا اور دیگر خطوں پر روس کی خودمختاری کو بین الاقوامی طور پر تسلیم کرنے کے بارے میں ممکنہ بات چیت کے بارے میں انہوں نے کہا کہ وہ اس پر کوئی تبصرہ نہیں کریں گے۔ تاہم، روسی صدر کے پریس سکریٹری دمتری پیسکوف نے جمعرات کو کہا کہ آنے والے دنوں میں پوتن-ٹرمپ ملاقات کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔












