واشنگٹن (ہ س)۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو ’گولڈن ڈوم‘ میزائل ڈیفنس پروجیکٹ کا اعلان کیا۔ یہ ایک جدید ترین میزائل ڈیفنس شیلڈ بنانے کا منصوبہ ہے۔ یہ خلا سے آنے والے خطرات کو روک سکے گا۔ ایک اندازے کے مطابق اس پر 175 بلین ڈالر لاگت آئے گی۔ یہ منصوبہ تین سال میں مکمل ہوگا۔اے بی سی نیوز کے مطابق ’گولڈن ڈوم‘ پروجیکٹ کی مکمل نگرانی خلائی فورس کے جنرل مائیکل گوٹلن کریں گے۔ یہ منصوبہ سابق صدر رونالڈ ریگن کے ناکام ’اسٹار وارز‘ پروگرام کی یاد تازہ کرتا ہے۔ وائٹ ہاؤس نے ٹیکنالوجی میں ترقی کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ ریگن کی کچھ دوراندیشی اب ممکن ہو سکی ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ گولڈن ڈوم پروجیکٹ ان کی میعاد ختم ہونے سے پہلے شروع ہو جائے گا۔ ‘گولڈن ڈوم’ خلا اور دنیا کے کسی بھی حصے سے داغے جانے والے میزائلوں کو روکنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ٹرمپ نے ایک سال قبل اپنی انتخابی مہم کے دوران اسرائیل کے آئرن ڈوم جیسی امریکی میزائل ڈیفنس شیلڈ کا خیال پیش کیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے ایران کے حملوں کے دوران تقریباً 300 میزائل اور ڈرون مار گرائے۔ میزائل دفاعی ماہر ٹام کاراکو نے کہا کہ موجودہ امریکی نظام بنیادی طور پر شمالی کوریا جیسے برے ملک سے بین البراعظمی بیلسٹک میزائلوں کو مار گرانے کی صلاحیت پر مرکوز ہے۔ امریکہ کو دیگر خطرات جیسے ڈرون، کروز میزائل اور ہائپر سونک ہتھیاروں کے خلاف بہتر تحفظ کی ضرورت ہے۔قابل ذکر ہے کہ 27 جنوری کو جیسے ہی انہوں نے اپنے صدارتی عہدے کی دوسری مدت شروع کی، ٹرمپ نے اس سلسلے میں ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے تھے۔ ٹرمپ نے لکھا کہ بیلسٹک، ہائپرسونک اور کروز میزائل اور دیگر جدید فضائی حملے امریکہ کو درپیش سب سے سنگین خطرہ ہیں۔ اس لیے محکمہ دفاع کو زیادہ مضبوط نظام تیار کرنا ہو گا۔












