قاہرہ (ہ س)۔ایک طرف اقوام متحدہ نے غزہ کے لیے تقریباً 100 امدادی ٹرکوں کی آمد کی منظوری کا اعلان کیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ مزید ٹرکوں کو بھی منگل کے روز داخلے کی اجازت دی گئی ہے، ساتھ ہی تمام رکے ہوئے ٹرکوں کو غزہ میں داخلے کی اجازت دینے کی بھی بات کی گئی ہے، تاہم زمینی صورتحال اس سے مختلف دکھائی دیتی ہے۔العربیہ کی رپورٹ کے مطابق شمالی سیناء کے گورنر لیفٹیننٹ جنرل ڈاکٹر خالد مجاور نیبتایا کہ "رفح کراسنگ مصرکی جانب سے کھلا ہے، مگر دوسری طرف سے بند ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب تک کراسنگ رفح کے ذریعے کوئی بھی امداد غزہ میں داخل نہیں ہوئی۔انہوں نے واضح کیا کہ آئندہ چند گھنٹوں میں مصری سرحد سے امداد کے داخلے کے حوالے سے کسی قسم کی پیش رفت یا اشارہ موجود نہیں۔ ان کے مطابق مصر کا مذاکراتی وفد قطر میں موجود مختلف فریقین کے ساتھ مل کر سیز فائر اور امداد کے داخلے کی بحالی کے لیے سنجیدہ کوششیں کر رہا ہے۔ گورنر نے بتایا کہ امدادی سامان متحدہ عرب امارات اور ترکیہ کی طرف سے مصر پہنچ چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ رفح گذرگاہ امداد کی ترسیل کے لیے مکمل تیار ہے، صرف سیاسی اتفاق رائے کا انتظار ہے تاکہ امداد اندر بھیجی جا سکے۔ مزید تفصیلات بتاتے ہوئے جزیرہ نما سیناء کے گورنر نے کہا کہ امدادی ٹرک سیناء میں لاجسٹک زون اور ہلالِ احمر کے گوداموں میں موجود ہیں اور مکمل طور پر تیار کھڑے ہیں۔ ان کے مطابق لاجسٹک زون رفح سے محض دس منٹ کے فاصلے پر ہے، جبکہ ہلالِ احمر کے گودام شہر العریش میں واقع ہیں، جو رفح کراسنگ سے تقریباً 45 کلومیٹر دور ہیں، یعنی ٹرک بیس منٹ میں وہاں پہنچ سکتے ہیں۔












