غزہ (ہ س)۔اسرائیل نے غزہ کی پٹی کے محصور علاقے میں انسانی امداد کے داخلے پر آمادگی ظاہر کرتے ہوئے اس کی اجازت دے دی ہے … تاہم دوسری طرف متعدد اسرائیلی شہری ’اشدود کی بندرگاہ‘ پہنچ گئے تاکہ امدادی سامان کو داخل ہونے سے روک سکیں۔جمعرات کے روز اسرائیلی نشریاتی ادارے ’کان‘ نے بتایا کہ جنوبی اسرائیل میں اشدود کی بندرگاہ پر اسرائیلی ’کارکنوں‘ کا ایک گروہ جمع ہوا تاکہ غزہ کی طرف جانے والے امدادی ٹرکوں کو روکا جا سکے۔اس حوالے سے سامنے آنے والی وڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اسرائیلی شہری قومی پرچم اٹھائے ہوئے امداد کے داخلے کو روکنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔اسرائیل نے بدھ کے روز اعلان کیا تھا کہ وہ اقوامِ متحدہ کی جانب سے غزہ کے لیے بھیجے گئے 100 امدادی ٹرکوں کو داخل ہونے کی اجازت دے گا۔ اس سے ایک روز قبل منگل کو اس نے 93 ٹرکوں کے داخلے کی اجازت دی تھی، جب کہ پیر کو تقریباً 10 ٹرکوں کو جانے دیا گیا۔اقوامِ متحدہ نے بدھ کے روز بتایا کہ اس نے غزہ میں 90 ٹرکوں کے برابر امدادی سامان کی تقسیم شروع کر دی ہے۔ اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کے ترجمان، اسٹیفن ڈوڑارک نے بتایا کہ اقوامِ متحدہ نے تقریباً 90 ٹرکوں کا سامان کرم ابو سالم کے راستے غزہ بھیجا ہے۔ یہ فرانسیسی خبر رساں ایجنسی نے بتائی۔ تاہم، اقوامِ متحدہ کے ایک امدادی عہدے دار نے بدھ کے روز واضح کیا کہ اگرچہ اسرائیلی حکومت نے دو روز قبل 11 ہفتے سے جاری محاصرے کو ختم کرنے کا اعلان کیا ، لیکن غزہ کے شہریوں کو اب تک کوئی امداد نہیں ملی، جس کے باعث غزہ کا علاقہ "قحط کے دہانے” پر پہنچ چکا ہے۔یاد رہے کہ اسرائیل نے رواں برس مارچ سے، جب جنگ بندی ختم ہو گئی تھی، غزہ پر سخت محاصرہ نافذ کر رکھا ہے۔ اس نے حماس پر الزام لگایا کہ وہ عام شہریوں کے لیے مختص امدادی سامان پر قبضہ کر رہی ہے، تاہم حماس نے اس الزام کی تردید کی ہے۔اس دوران، ایک نیا نظام متوقع ہے جسے امریکہ کی حمایت حاصل ہو گی، اور جس کے تحت نجی شعبے کے ٹھیکے داروں کی مدد سے امدادی سامان کی تقسیم کا عمل جلد شروع ہونے کا امکان ہے۔












