لندن (ہ س)۔برطانیہ کی فورسز کے ایک رکن نے افغانستان کی طالبان حکومت کی جانب سے سخت خطرات کے باوجود سابق افغان فوجیوں کی آباد کاری کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ صرف ایک برطانوی افسر نے اس طرح کے 1585 افغانوں کی درخواست مسترد کی ہے۔یہ وہ افغانی ہیں جنہوں نے نائن الیون کے بعد کی جنگ میں اتحادی فورسز کا ہر ممکن ساتھ دیا اور خدمات سرانجام دیں۔برطانوی ذرائع کے مطابق ان میں سے کچھ لوگ جنگی جرائم میں بھی ملوث نہیں تو کم از کم عینی شاہد ضرور رہے ہیں۔ذرائع کے مطابق اب بھی ان کی 600 درخواستیں زیر التوا ہیں۔ جو ابھی قبول ہوئی ہیں نہ مسترد۔ یہ بات جمعہ کے روز لندن کی ایک مقامی عدالت میں سامنے لائی گئی ہے۔ کہ اب تک صرف ایک برطانوی افسر نے 1585 افراد کی درخواستیں مسترد کی ہیں۔افغانستان میں خدمات انجام دے چکی سپیشل ایئر سروس نے عدالت کو بتایا ہے کہ جنگی جرائم کا پتہ چلا ہے کہ ان میں سب لوگ افغانی ہیں جن کے برطانیہ کی سپیشل فورس کے اہلکاروں کے ساتھ گہرے رابطے رہے ہیں۔ ایک ہفتہ قبل برطانیہ کے نشریاتی ادارے ‘ بی بی سی ‘ نے رپورٹ کیا تھا کہ ان درخواست گزاروں میں سے اکثریت ایسی ہے جو جنگی جرائم کے عینی شاہد رہے ہیں۔ نیز افغانستان میں ‘ٹرپلز’ کے نام سے معروف رہے ہیں۔ یہ اگست 2021 تک اتحادی فورسز کے ساتھ بھر پور تعاون و اشتراک میں خدمات انجام دیتے رہے ہیں۔ ان میں سے ہزاروں کے اہل خانہ اور رشتہ داروں نے برطانیہ میں رہنے کے لیے ویزے کی درخواست دی تھی۔مرسر کے مطابق انکوائری میں شہادتوں کا سلسلہ انتہائی غیر مناسب تھا۔ ان ‘ٹرپلز’ میں سے بہت سوں کو اگست 2021 کے بعد طالبان نے ہلاک کر دیا تھا۔ تاہم کچھ لوگ بچ گئے تھے۔ ان میں سے بھی ایک کی درخواست برطانوی عدالت نے ماورائے عدالت قتل کے سلسلے میں مسترد کر دی تھی۔برطانوی وزارت دفاع نے ابتدائی طور پر ‘ٹرپلز’ کی درخواستوں پر سپیشل فورسز کو ویٹو کرنے سے انکار کیا تھا۔ان ‘ٹرپلز’ کو برطانیہ نے اسلحہ ، تربیت اور مالی مدد دی تھی۔ تاہم ان کے اب افغانستان میں رہنے سے ان کی جانیں خطرے میں ہو سکتی تھیں۔ اس کے باوجود برطانیہ کی سپیشل فورسز نے ان ‘ٹرپلز’ کی 2000 سے زیادہ درخواستیں مسترد کر دی ہیں۔البتہ وزارت دفاع نے درخواستیں مسترد کیے جانے کے بعد انہیں دوبارہ سننے کا فیصلہ کیا کہ شاید درخواستیں مسترد کرنے کا عمل زیادہ موثر نہیں تھا۔ یوں برطانوی حکومت نے مسترد کردہ 2500 درخواستوں کا نئے سرے سے جائزہ لیا اور 1585 درخواستیں مسترد کر دیں۔اس سے پہلے وزارت دفاع نے سپیشل فورسز کی تحقیقات کے طریقے کا بھی جائزہ لیا تھا۔ تفتیش کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ سپیشل فورس کے تحقیقات کرنے والے اکلوتے افسر نے درخواستیں مسترد کرنے کے لیے کوئی ثبوت نہیں دیکھے تھے۔ اسی طرح وہ اکلوتا برطانوی افسر وزارت کے سامنے بھی اپنے فیصلے کے حق میں کوئی ثبوت نہ لا سکا۔












