واشنگٹن (ہ س)۔امریکی وزارتِ خزانہ نے جمعہ کے روز شامی صدر احمد الشرع اور وزیر داخلہ انس الخطاب پر عائد پابندیاں ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔اسی طرح مرکزی بینک، دیگر کئی بینکوں، سرکاری تیل و گیس کمپنیوں، وزارتوں، شامی فضائی کمپنی، نشریاتی و ٹیلی ویڑن ادارے، اور اللاذقیہ و طرطوس کی بندرگاہوں پر بھی پابندیاں ختم کر دی گئی ہیں۔امریکی وزارتِ خزانہ نے جمعہ کے ہی روز ایک فوری فیصلے کے تحت شام پر عائد پابندیاں نرم کرنے کا اعلان کیا۔وزارت نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے مطابق ہے، جس میں انھوں نے شام پر عائد تمام پابندیاں ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔وزارت نے مزید کہا کہ اس فیصلے سے شام میں نئی سرمایہ کاریاں اور نجی شعبے کی نئی سرگرمیوں کی راہ ہموار ہو گی۔ اس کے ساتھ ساتھ اس نے کہا کہ "یہ فیصلہ ہمارے غیر ملکی شراکت داروں اور اتحادیوں کو شام میں سرمایہ کاری کی اجازت دے گا۔وزارت نے اس امر کی بھی تصدیق کی کہ یہ فیصلہ شام پر سے پابندیاں اٹھانے کے لیے امریکی کوششوں کے ایک وسیع تر اقدام کی پہلی کڑی ہے۔امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ شام کو "ایک پْر امن اور مستحکم ملک بننے کے لیے کام جاری رکھنا چاہیے، اس امید کے ساتھ کہ آج کے اقدامات اس ملک کو ایک روشن، خوش حال اور مستحکم مستقبل کی طرف لے جائیں گے۔دوسری جانب، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اپنے بیان میں اعلان کیا کہ انھوں نے "سیزر سیریا سویلین پروٹیکشن ایکٹ” کے تحت شام پر عائد پابندیوں سے 180 دن کی مدت کے لیے استثنا جاری کیا ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ یہ پابندیاں سرمایہ کاری کی راہ میں رکاوٹ نہ بنیں، اور بجلی، توانائی، پانی، صحت کی سہولیات اور انسانی امداد کی کوششوں میں آسانی پیدا ہو۔انھوں نے مزید کہا کہ "آج کے اقدامات صدر کے وڑن کے مطابق شام اور امریکہ کے درمیان ایک نئے تعلق کی طرف پہلا قدم ہیں۔”یہ اعلان اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ٹرمپ نے 13 مئی کو یہ کہا تھا کہ انھوں نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی درخواست پر شام پر عائد پابندیاں ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔انھوں نے ریاض سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے یہ فیصلہ شہزادہ محمد بن سلمان سے اس معاملے پر گفتگو کے بعد کیا ہے۔ٹرمپ نے مزید کہا تھا کہ شام پر سے پابندیاں ہٹانے کا فیصلہ شامی عوام کو ایک نیا موقع دینے کے لیے کیا گیا ہے۔ادھر یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس نے 20 مئی کو اعلان کیا کہ یورپی یونین کے وزرائے خارجہ نے سابق صدر بشار الاسد کے دور سے عائد اقتصادی پابندیاں اٹھانے پر اتفاق کر لیا ہے۔نئی شامی حکومت جب سے برسر اقتدار آئی ہے، وہ معیشت کو دوبارہ متحرک کرنے اور چودہ سالہ تباہ کن جنگ کے بعد بحالی کے مرحلے کا آغاز کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ وہ امریکی اور یورپی پابندیوں کے خاتمے کے مثبت اثرات پر امید لگائے بیٹھی ہے۔اقوامِ متحدہ کے سابقہ اندازوں کے مطابق، شام کو تعمیرِ نو کے لیے 400 ارب ڈالر درکار ہوں گے، خصوصاً اس حال میں کہ ملک بھر میں ہزاروں عمارتیں منہدم ہو چکی ہیں، کئی علاقے مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں، اور بجلی سمیت دیگر شعبے سالہا سال کی جنگ کی وجہ سے برباد ہو چکے ہیں۔












