غزہ (ہ س)۔امریکی حمایت یافتہ تنظیم "غزہ یومینٹریئن فاؤنڈیشن” کا کہنا ہے کہ اس نے غزہ کی پٹی میں غذائی امداد کی تقسیم کا ایک نیا نظام شروع کر دیا ہے۔ تنظیم نے ایک بیان میں یہ بھی بتایا کہ آج منگل کے روز مزید امدادی ٹرکوں کی آمد متوقع ہے۔غزہ میں امداد کی تقسیم کی ذمے دار اس نجی تنظیم نے اعلان کیا ہے کہ اس کے سابق سربراہ کی جانب سے خود مختاری کی کمی پر احتجاجاً استعفا دینے کے بعد، اب جان ایکری کو عارضی طور پر ادارے کا نیا ایگزیکٹو ڈائریکٹر مقرر کیا گیا ہے۔تنظیم نے پیر کے روز "مشکلات” کے ساتھ اپنی سرگرمی کا آغاز کیا … اور اس بات کے واضح شواہد نہیں ملے کہ اس نے واقعی امدادی سامان تقسیم کیا ہو … بالخصوص جب کہ صرف ایک دن پہلے اس کے ڈائریکٹر نے اچانک استعفا دے دیا تھا۔رواں سال فروری میں قائم ہونے والی غزہ ہیومینٹیریئن فاؤنڈیشن” کو شدید تنقید کا سامنا ہے، بالخصوص اقوامِ متحدہ کے حکام کی جانب سے، جنھوں نے کہا ہے کہ اس ادارے کی جانب سے امدادی تقسیم کی منصوبہ بندی نہ صرف ناکافی ہے بلکہ یہ فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کو بڑھاوا دے گی اور مزید تشدد کو جنم دے گی۔اس منصوبے کے مطابق، جسے مئی کے آخر تک شروع کیا جانا تھا اور اسرائیل نے اس پر عمل درآمد بھی شروع کر دیا ہے، اقوامِ متحدہ اور دیگر امدادی تنظیموں کے بجائے اب نجی کمپنیاں امداد غزہ کے اندر پہنچائیں گی۔ یہ امداد جنوبی غزہ میں ان چند مقامات پر منتقل کی جائے گی جنھیں اسرائیل نے "محفوظ تقسیم کے مقامات” قرار دیا ہے۔اس امدادی منصوبے کی اسرائیل نے منظوری دی جب کہ اقوامِ متحدہ نے مسترد کر دیا۔ یہ منصوبہ ایسے وقت نافذ کیا جا رہا ہے جب غزہ پر اسرائیلی حملے جاری ہیں۔تقریباً تین ماہ سے جاری محاصرے کے بعد غزہ کی پٹی میں خوراک کی شدید قلت برقرار ہے، اور واشنگٹن کا کہنا ہے کہ وہ جنگ کے 19 ماہ گزرنے کے باوجود جنگ بندی کی بحالی کے لیے کوشاں ہے، تاہم پیش رفت اب تک بہت دور نظر آتی ہے۔غزہ میں گزشتہ چند دنوں میں کچھ انسانی امداد کا داخلہ شروع ہوا ہے، جب اسرائیل نے مارچ کے اوائل سے امداد کی مکمل بندش کے بعد بین الاقوامی دباؤ کے تحت نرمی کی۔ بھوک پر نظر رکھنے والے ایک عالمی ادارے نے خبردار کیا ہے کہ پانچ لاکھ افراد قحط کے دہانے پر ہیں، جو غزہ کی کل آبادی کا ایک چوتھائی حصہ ہیں۔ واضح رہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان اکتوبر 2023 سے جنگ جاری ہے۔اسرائیل کا الزام ہے کہ حماس امداد چوری کرتی ہے، جب کہ حماس اس کی تردید کرتی ہے۔ اسرائیل نے امداد کی رسائی کو حماس کے زیرِ حراست باقی تمام افراد کی رہائی سے مشروط کر رکھا ہے، جنھیں فلسطینی مزاحمتی تنظیم نے سات اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حملے کے دوران قید کیا تھا۔












