غزہ (ہ س)۔حماس نے کہا ہے کہ وہ فلسطینی فورسز اور گروپوں سے جنگ بندی کی اس تجویز کے بارے میں مشاورت کر رہی ہے جو اسے حال ہی میں وٹکوف سے ثالثوں کے ذریعے موصول ہوئی تھی۔اسرائیلی اخبار ’’یدیعوت احرونوت‘‘ نے رپورٹ کیا کہ اسرائیل نئے منصوبے کو قبول کرنے کی طرف جھکاؤ رکھتا ہے لیکن حماس کو تحفظات ہیں۔ حماس کے تحفظات بنیادی طور پر جنگ کے خاتمے کے عزم کی کمی کی وجہ سے ہیں۔سینئر اسرائیلی حکام کا کہنا تھا کہ اسرائیل اس منصوبے کو قبول کرے گا لیکن یہ قطعی طور پر نہیں ہے کہ حماس اسے قبول کر لے گی۔ ان کے مطابق اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ اس منصوبے میں لڑائی ختم کرنے کا عزم شامل نہیں ہے۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو حماس کی قیادت کے اندر متنازع رہتا ہے۔اسرائیلی اخبار ’’ یدیعوت احرونوت ‘‘ نے رپورٹ کیا ہے کہ سینئر حکام نے اندازہ لگایا ہے کہ اگر حماس یہ تجویز قبول کر لیتی ہے تو وہ نیتن یاہو کی حکومت کو گرانے میں کامیاب ہو سکتی ہے۔ حکام نے مزید کہا کہ سموٹریچ اور بن گویر جیسے وزرا اس تجویز پر اعتراض کر سکتے ہیں لیکن ان کے پاس حکومت کو تحلیل کرنے کی کوئی حقیقی وجہ نہیں ہے۔ کیونکہ یہ منصوبہ اصل میں امریکی ایلچی وِٹکوف کا ہے۔نیا منصوبہ فلسطین کی جانب ایک تزویراتی تبدیلی کو تقویت دے رہا ہے۔ یہ تبدیلی بظاہر غزہ کی پٹی میں اسرائیل کی طرف سے فوجی دباؤ کی وجہ سے ہے اور شاید اس لیے بھی آرہی ہے کہ اس وقت انسانی امداد ایک امریکی کمپنی کی طرف سے تقسیم کی جا رہی ہے۔ اس تذویراتی تبدیلی نے حماس کی قیادت کے کچھ حصوں کو دشمنی کے مکمل خاتمے کے اپنے مطالبے سے پیچھے ہٹنے پر اکسایا ہے، یہ ان کی سابق پوزیشنوں کے مقابلے میں ایک "ڈرامائی” تبدیلی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیل اپنی تزویراتی کامیابیوں سے دستبردار نہیں ہوگا۔ یہ فلاڈیلفی کوریڈور پر رہے گا لیکن موراگ کوریڈور سے پیچھے ہٹ جائے گا۔ معاہدے کے نفاذ کے پہلے دن اسرائیل نٹساریم کوریڈور کے شمال میں حال ہی میں قبضے والے علاقوں سے اور ساتویں دن ان علاقوں سے دستبردار ہو جائے گا جن پر اس نے کوریڈور کے جنوب میں قبضہ کیا تھا۔اسرائیل نے بھی اصل منصوبے میں شامل 40 سے 45 دن کی جنگ بندی کے موقف سے پیچھے ہٹ کر 60 دن کی مدت پر رضامندی ظاہر کی ہے لیکن اس لڑائی ختم کرنے کا مطالبہ تسلیم نہیں کیا۔ اسرائیل کو اقوام متحدہ کے ذریعے انسانی امداد کی تجدید کو ماننے پر مجبور کیا گیا ہے حالانکہ اس منصوبے کے آرٹیکل 4 میں یہ شرط رکھی گئی ہے کہ امداد صرف عام شہریوں تک پہنچائی جائے گی نہ کہ حماس کو دی جائے گی۔ تاہم اسرائیلی ذرائع بتاتے ہیں کہ ماضی کا تجربہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ اقوام متحدہ کے ذریعے فراہم کی جانے والی امداد حماس کے ہاتھ میں چلی جاتی ہے۔












