واشنگٹن، (یو این آئی) ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ حالیہ واقعے نے وائٹ ہاؤس میں محفوظ بال روم کی ضرورت کو واضح کر دیا ہے۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ فوج، سیکرٹ سروس اور صدور گزشتہ 150 سال سے محفوظ بال روم کی تعمیر کا مطالبہ کرتے آ رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اگر وائٹ ہاؤس میں زیر تعمیر خفیہ بال روم پہلے سے موجود ہوتا تو یہ واقعہ پیش نہ آتا۔ٹرمپ نے بتایا کہ نیا بال روم جدید ترین سیکیورٹی فیچرز سے لیس ہوگا اور اسے دنیا کی محفوظ ترین عمارت کا حصہ بنایا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ بال روم کے اوپر کوئی کمرے نہیں ہوں گے تاکہ کسی غیر محفوظ مقام سے داخلے کا امکان نہ رہے۔صدر کے مطابق اس منصوبے کے خلاف دائر مقدمہ بے بنیاد ہے اور اسے فوری طور پر ختم کیا جانا چاہیے۔انہوں نے واضح کیا کہ منصوبے کی تعمیر میں کسی قسم کی رکاوٹ برداشت نہیں کی جائے گی اور یہ منصوبہ بجٹ کے مطابق اور مقررہ وقت سے پہلے مکمل کیا جا رہا ہے۔وائٹ ہاؤس کوریسپونڈنٹس ڈنر میں فائرنگ کے واقعے میں گرفتار مشتبہ شخص کی شناخت کول ٹوماس ایلن کے نام سے کر لی گئی ہے۔رائٹرز کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اہلکار نے بتایا کہ تقریباً 31 سالہ کول ایلن لاس اینجلس کے قریب ٹورینس کا رہائشی ہے۔سوشل میڈیا معلومات کے مطابق وہ کیلیفورنیا انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (کیلٹیک) کا گریجویٹ ہے اور جز وقتی استاد اور گیم ڈویلپر کے طور پر کام کرتا رہا ہے۔پولیس حکام کے مطابق ملزم واشنگٹن ہلٹن ہوٹل میں بطور مہمان مقیم تھا، جہاں یہ سالانہ تقریب منعقد ہو رہی تھی، تاہم واقعے کا محرک تاحال واضح نہیں ہو سکا۔سوشل میڈیا پوسٹس کے مطابق دسمبر 2024 میں اسے سی 2 ایجوکیشن ادارے کی جانب سے ٹیچر آف دی منتھ بھی قرار دیا گیا تھا، جو طلبہ کو کالج میں داخلے کی تیاری کراتا ہے۔لنکڈ اِن پروفائل کے مطابق کول ایلن نے خود کو مکینیکل انجینئر اور کمپیوٹر سائنس دان کے طور پر متعارف کرایا ہے، جبکہ اس نے 2017 میں کیلٹیک سے مکینیکل انجینئرنگ اور 2025 میں کیلیفورنیا اسٹیٹ یونیورسٹی سے کمپیوٹر سائنس میں ماسٹرز مکمل کیا۔کیلٹیک نے بھی تصدیق کی ہے کہ اسی نام کا ایک شخص 2017 میں وہاں سے فارغ التحصیل ہوا تھا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے فائرنگ کے واقعے کے بعد ہنگامی پریس بریفنگ میں کہا ہے کہ یہ ان کی جان لینے کی ایک اور کوشش تھی۔وائٹ ہاؤس سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ گزشتہ چند برسوں میں انہیں نشانہ بنانے کی متعدد کوششیں ہوئیں، جن میں پنسلوانیا بٹلر میں جلسے کے دوران اور پام بیچ فلوریڈا میں گالف کھیلتے وقت پیش آنے والے واقعات شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ سالانہ عشائیہ میں فائرنگ کا واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وائٹ ہاؤس میں جدید طرز کے بال روم اور غیر معمولی سیکیورٹی اقدامات کی فوری ضرورت ہے۔ٹرمپ کے مطابق واقعے کے دوران امریکی خفیہ سروس کے ایک اہلکار کو قریب سے گولی ماری گئی، تاہم بلٹ پروف جیکٹ کی وجہ سے اس کی جان بچ گئی اور اس کی حالت اب خطرے سے باہر ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ حملہ آور متعدد ہتھیاروں کے ساتھ سیکیورٹی چیک پوائنٹ کی جانب بڑھا، لیکن سیکیورٹی اہلکاروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اسے قابو میں لے لیا۔صدر کے مطابق انہوں نے ملزم کی تصویر اور سی سی ٹی وی فوٹیج سوشل میڈیا پر جاری کر دی ہے تاکہ شفافیت برقرار رکھی جا سکے۔اس موقع پر ایف بی آئی کے ڈائریکٹر اور ہوم لینڈ سیکیورٹی کے وزیر بھی موجود تھے۔ٹرمپ نے کہا کہ یہ تقریب آزادی اظہار اور اتحاد کے فروغ کے لیے منعقد کی گئی تھی، تاہم اس واقعے نے سیکیورٹی خدشات کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔ واشنگٹن ڈی سی میں منعقد ہونے والے وائٹ ہاؤس کورسپونڈنٹس ایسوسی ایشن” (ڈبلیو ایچ سی اے) کے عشائیے میں پیش آنے والے فائرنگ کے واقعے نے پوری دنیا کو حیران اور صدمے میں ڈال دیا ہے۔وزیر اعظم نریندر مودی نے اس حملے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ، خاتونِ اول اور نائب صدر جے ڈی وینس کی سلامتی پر اطمینان ظاہر کیا۔ وزیر اعظم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس” پر کہاکہ”واشنگٹن ڈی سی کے ایک ہوٹل میں فائرنگ کے واقعے کے بعد یہ جان کر راحت ملی کہ مسٹر ٹرمپ، خاتونِ اول اور نائب صدر محفوظ اور خیریت سے ہیں۔” انہوں نے واضح طور پر کہاکہ "جمہوریت میں تشدد کی کوئی جگہ نہیں ہے اور ایسے واقعات کی بلا جھجھک مذمت ہونی چاہیے۔” مودی کے ساتھ ساتھ دنیا کے دیگر بڑے ممالک کے سربراہان نے بھی اس حملے کو جمہوری اداروں اور آزادیٔ صحافت پر حملہ قرار دیا ہے۔ برطانیہ کے وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے اس واقعے پر شدید حیرت کا اظہار کرتے ہوئے مذمت کی۔ انہوں نے کہاکہ جمہوری اداروں یا آزادیٔ صحافت پر کسی بھی حملے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت ہونی چاہیے۔” امریکہ میں برطانیہ کے سفیر کرسچین ٹرنر نے کہا کہ برطانوی سفارت خانے کے کچھ اہلکار بھی اس پروگرام میں موجود تھے۔ انہوں نے "امریکی سیکرٹ سروس کی فوری اور پیشہ ورانہ کارروائی” کی تعریف کی اور سوشل میڈیا پر لکھا، "ہم شکر گزار ہیں کہ صدر اور تمام حاضرین محفوظ ہیں۔ ہماری ہمدردیاں زخمی اہلکار کے ساتھ ہیں۔” آسٹریلیا کے وزیر اعظم انتھونی البانیز نے بھی امریکی سیکرٹ سروس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی فوری کارروائی کو سراہا۔ انہوں نے کہاکہ "یہ سن کر خوشی ہوئی کہ صدر، خاتونِ اول اور تقریب میں شریک تمام افراد محفوظ ہیں۔












