تہران(ہ س)۔ایران اور امریکا کے درمیان جوہری معاملے پر بالواسطہ مذاکرات کے چھٹے دور کے انعقاد کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیفٹ نے گزشتہ ہفتے ایک ہدایت نامہ جاری کیا، جس میں تہران پر نئی پابندیاں عائد کرنے کی تمام سرگرمیاں معطل کرنے کا حکم دیا گیا۔ یہ بات امریکی ذرائع نے بتائی۔تاہم، امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل” کے مطابق وائٹ ہاؤس سے قریبی تعلق رکھنے والے ایک ذریعے نے واضح کیا کہ "انتہائی دباؤ” کی مہم اب بھی جاری ہے۔یہ نیا حکم سب سے پہلے قومی سلامتی کونسل اور محکمہ خزانہ کے اعلیٰ حکام کو پہنچایا گیا، جس کے بعد اس حوالے سے وزارت خارجہ اور مشرق وسطیٰ کے امور سے متعلقہ اہل کاروں کو بھی آگاہ کر دیا گیا۔یہ ہدایات 21 مئی کے بعد سامنے آئیں، جب محکمہ خزانہ نے معمول کے تحت پابندیوں کی درجہ بندی کے عمل کو منجمد کر دیا۔ اس تاریخ کے بعد ایران پر کسی نئی امریکی پابندی کا اعلان نہیں کیا گیا۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے حکام کا کہنا ہے کہ اس پالیسی کا مقصد صرف نئی پابندیوں کے نفاذ کے عمل کو سست کرنا اور اس کا باریک بینی سے جائزہ لینا ہے، خاص طور پر ان حساس جوہری مذاکرات کی روشنی میں۔جب کہ بعض دیگر افراد کو یہ خدشہ لاحق ہے کہ اس اچانک روک سے کچھ اہم فریق حیران رہ گئے ہیں۔وائٹ ہاؤس نے پابندیوں کی معطلی پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے صرف اتنا کہا کہ اگر اس حوالے سے کوئی نیا فیصلہ ہوا تو اس کا اعلان کیا جائے گا۔صدر ٹرمپ نے 30 مئی کو اعلان کیا تھا کہ تہران کے ساتھ جوہری پروگرام کے سلسلے میں جلد معاہدہ طے پا سکتا ہے۔مگر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان اب بھی معاہدے تک پہنچنے میں خاصا فاصلہ باقی ہے۔یاد رہے کہ عراقچی نے گزشتہ ہفتے کے روز اعلان کیا تھا کہ انھیں امریکی فریق کی جانب سے عمانی ثالث کے ذریعے تحریری تجویز موصول ہوئی ہے، اور ایران بھی اس کے جواب میں تحریری رد عمل تیار کر رہا ہے۔امکان ہے کہ دونوں فریقوں کے درمیان بات چیت کا چھٹا دور جلد منعقد ہو گا، تاکہ ان مذاکرات کو آگے بڑھایا جا سکے۔ یہ مذاکرات 12 اپریل کو شروع ہوئے تھے اور اب تک مثبت قرار دیے جا رہے ہیں۔ اگرچہ یہ بنیادی رکاوٹ باقی ہے کہ ایران کو اس کی سرزمین پر یورینیم کی افزودگی کی اجازت دی جائے یا نہیں۔












