واشنگٹن(ہ س)۔اسرائیلی وزراء پر برطانیہ اور دیگر اتحادی ملکوں کی طرف سے لگائی گئی پابندیوں پر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے سخت ردعمل دیتے ہوئے برطانوی و دیگر اتحادی ملکوں کے اس فیصلے کی مذمت کی ہے۔انتہا پسند اور تشدد پسند کی حمایت کی شہرت رکھنے والے اسرائیلی وزیروں ایتمار بین گویر اور بذالیل سموٹریچ پر برطانیہ، کینیڈا، ناروے، نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا نے پابندیاں عائد کی ہیں۔ یہ تمام ملک اسرائیل کے سخت حامی، اتحادی اور معاون ہیں۔ تاہم اب غزہ میں جنگ کو 21 ماہ ہوجانے اور اسرائیلی فوج کی طرف سے فلسطینیوں کی مسلسل نسل کشی جاری رکھنے کے ساتھ ساتھ بھوک کو بھی فلسطینیوں کی نسل کشی کی خاطر بطور ہتھیار استعمال کیے جانے پر ان ملکوں نے اپنے عوام کے جذبات کو بھی اہمیت دینا شروع کی ہے۔ مزید یہ کہ ان ملکوں نے اپنے خارجہ امور سے متعلق حکام کی طرف سے پیش کردہ تحفظات کو بھی دیکھنا شروع کیا ہے کہ اسرائیل مسلسل بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کا مرتکب ہو رہا ہے۔اس لیے اسرائیلی کابینہ کے انتہائی دائیں بازو کے ان وزراء پر مقبوضہ مغربی کنارے میں رہنے والے فلسطینیوں کے خلاف پر تشدد کارروائیاں کرنے کی بنیاد پر یورپ کے بعض ملکوں سمیت دیگر اتحادیوں نے بھی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے مذکورہ اتحادی ملکوں کے اس فیصلے پر منگل کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا ان پابندیوں سے غزہ میں جاری جنگ کو رکوانے کی کوششیں اور اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کے لیے جاری امریکی کوششیں آگے نہیں بڑھ سکیں گی۔انہوں نے مزید کہا ‘ امریکہ ان پابندیوں کے خاتمے پر زور دیتا ہے اور یہ بتانا چاہتا ہے کہ امریکہ اسرائیل کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہے۔یاد رہے امریکہ نے محض چند روز قبل ہی غزہ میں جنگ بندی کے لیے سلامتی کونسل میں پیش کردہ ایک قرارداد کی حمایت میں 14 ووٹ پڑنے کے باوجود اسے ویٹو کردیا ہے۔ امریکہ مجموعی طور اب تک پانچ قراردادوں کو ویٹو کر کے جنگ بندی کا راستہ روک چکا ہے۔ تاکہ اسرائیل کو کھلی چھٹی ملی رہے۔












