لندن(ہ س)۔برطانیہ کی ہائیکورٹ نے امریکی ساختہ ایف 35 لڑاکا طیاروں کے تمام برطانوی ساختہ سپیئر پارٹس کی اسرائیل کو منتقلی روکنے کی کوشش کرنے والوں کی جانب سے دائر کیے گئے مقدمے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالت کے پاس اس معاملے میں مداخلت کرنے کا آئینی اختیار نہیں ہے۔واضح رہے کہ غزہ کی پٹی میں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں میں برطانوی ساختہ ہتھیاروں کے استعمال کے خطرے کے پیش نظر حکومت نے گذشتہ ستمبر میں اسرائیل کو اسلحے کی برآمد کے تقریباً 30 لائسنس معطل کر دیے تھے۔لیکن برطانیہ ایف 35 کے گلوبل پول کو پارٹس فراہم کرتا ہے جس تک اسرائیل رسائی حاصل کرسکتا ہے۔ حکومت نے دلیل دی تھی کہ وہ بین الاقوامی امن کو خطرے میں ڈالے بغیر دفاعی پروگرام سے دستبردار نہیں ہوسکتی ہے۔تاہم ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ نے اس فیصلے پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ ان دونوں گروپوں نے اس معاملے میں مداخلت کی تھی۔ایمنسٹی انٹرنیشنل برطانیہ کی چیف ایگزیکٹیو ساچا دیش مکھ نے کہا کہ ’غزہ کی ہولناک حقیقت پوری دنیا کے سامنے آ رہی ہے، خاندان کے خاندان تباہ ہو گئے، نام نہاد محفوظ علاقوں میں شہری ہلاک ہو گئے، ہسپتال ملبے میں تبدیل ہو گئے اور ظالمانہ ناکہ بندی اور جبری نقل مکانی کی وجہ سے لوگ بھوک کا شکار ہو رہے ہیں۔‘یہ فیصلہ زمینی حقائق کو تبدیل نہیں کرتا اور نہ ہی یہ برطانوی حکومت کو بین الاقوامی قانون کے تحت اس کی ذمہ داریوں سے بری الذمہ قرار دیتا ہے۔دونوں ججوں نے کہا کہ معاملہ اس بارے میں نہیں ہے کہ آیا برطانیہ کو اسرائیل کو اسلحہ اور دیگر فوجی سازوسامان فراہم کرنا چاہئے یا نہیں، کیونکہ حکومت نے فیصلہ کیا تھا کہ اسے ایسا نہیں کرنا چاہئے۔ان سے کہا جا رہا تھا کہ وہ ایک خاص مسئلے پر فیصلہ کریں اور وہ یہ کہ ’کیا برطانیہ کو ’ایک مخصوص کثیر الجہتی دفاعی تعاون سے دستبردار ہونا چاہئے‘ کیونکہ اس امکان کی وجہ سے کہ برطانیہ کے تیار کردہ کچھ پرزے اسرائیل کو فراہم کیے جاسکتے ہیں اور غزہ کے تنازع میں بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی میں استعمال ہوسکتے ہیں۔‘انھوں نے کہا کہ ’ہمارے آئین کے تحت یہ انتہائی حساس اور سیاسی معاملہ ایگزیکٹو کا معاملہ ہے جو جمہوری طریقے سے پارلیمنٹ اور بالآخر رائے دہندگان کے سامنے جوابدہ ہے نہ کہ عدالتوں کے لیے۔‘یہ مقدمہ اسرائیل کے زیر قبضہ مغربی کنارے سے تعلق رکھنے والے ایک گروپ الحق اور گلوبل لیگل ایکشن نیٹ ورک کی جانب سے ڈپارٹمنٹ فار بزنس اینڈ ٹریڈ کے خلاف دائر کیا گیا تھا۔حکومت کا یہ بھی کہنا تھا کہ دفاعی پروگرام سے دستبرداری برطانیہ اور نیٹو پر امریکی اعتماد کو کمزور کر سکتی ہے۔حکومت کا کہنا ہے کہ وہ اپنے دفاعی ایکسپورٹ لائسنسنگ کا جائزہ لینا جاری رکھے گی۔ایک ترجمان نے کہا کہ ’عدالت نے اس معاملے پر اس حکومت کے مکمل اور قانونی فیصلے کو برقرار رکھا ہے۔‘انسانی حقوق کی تنظیموں کے وکلا اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ کیا انھیں اپیل کرنے کی بنیاد مل سکتی ہے۔












