روم(ہ س)۔اطالوی وزیرِاعظم جارجیا میلونی نے خبردار کیا ہے کہ مغربی ممالک کے درمیان ایک نئی تجارتی جنگ چھڑ سکتی ہے۔ ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یورپی یونین کی مصنوعات پر 30 فیصد تک درآمدی ٹیکس عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔میلونی نے اپنے دفتر کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہاکہ "مغربی ممالک کے درمیان تجارتی جنگ ہم سب کو ان عالمی چیلنجز کے سامنے کمزور کر دے گی جن کا ہم مل کر سامنا کر رہے ہیں”۔یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب وائٹ ہاؤس کے اقتصادی مشیر کیوِن ہیسٹ نے اتوار کو انکشاف کیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بعض تجارتی معاہدوں سے متعلق تجاویز کا جائزہ لیا ہے اور ان کا خیال ہے کہ یہ تجاویز بہتر ہو سکتی ہیں۔کیوِن ہیسٹ کے مطابق اگر بہتر تجاویز پیش نہ کی گئیں تو ٹرمپ میکسیکو، یورپی یونین اور دیگر ممالک پر مجوزہ درآمدی محصولات نافذ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا: "تاہم جیسا کہ آپ جانتے ہیں، مذاکرات جاری ہیں۔ دیکھتے ہیں معاملات کس طرف جاتے ہیں۔اقتصادی مشیر نے مزید کہا کہ ٹرمپ کی جانب سے برازیل سے آنے والی اشیاء پر 50 فیصد ٹیرف کی دھمکی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ جنوبی امریکی ملک کے رویے اور اس کے ساتھ جاری تجارتی مذاکرات سے وہ سخت نالاں ہیں۔یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز اعلان کیا تھا کہ یکم اگست سے میکسیکو اور یورپی یونین سے درآمد کی جانے والی اشیاء پر 30 فیصد تک ٹیرف عائد کیا جائے گا۔ ان کا یہ فیصلہ کئی ہفتوں سے جاری تجارتی مذاکرات کے بعد سامنے آیا، جو کسی جامع تجارتی معاہدے پر منتج نہیں ہو سکے۔واضح رہے کہ میکسیکو اور یورپی یونین، امریکہ کے بڑے تجارتی شراکت داروں میں شامل ہیں۔












