ریاض:سعودی عرب میں عربی اخبار "ام القری” نے طبی ریفرل سینٹر کے تنظیمی ضوابط شائع کر دیے ہیں، جن کی منظوری سعودی کابینہ نے دی تھی۔ یہ مرکز ملک کے اندرون اور بیرون طبی اداروں کے درمیان ریفرل (حوالہ) نظام کو منظم کرے گا اور ان اداروں کی گنجائش کی حالت کی نگرانی کرے گا۔مرکز ایسے تمام معاملات کو منظم کرے گا جو سرکاری ملازمین کی بیماری کی رخصت کی اُن رپورٹوں سے متعلق ہوں جن کی مدت سعودی عرب کے اندر 30 دن سے زائد ہو، یا پھر ان ملازمین سے متعلق ہوں جو بیرون ملک مقیم ہوں۔ اسی طرح یہ مرکز سرکاری ملازمین کی صحت کی بنیاد پر معذوری سے متعلق درخواستوں کی جانچ اور ان پر غور کرے گا اور متعلقہ ضوابط کے مطابق ضروری فیصلے کرے گا۔ مزید برآں، مرکز مریض قیدیوں کی حالت کے حوالے سے متعلقہ ادارے کی جانب سے دی جانے والی طبی رہائی کی درخواستوں پر بھی کارروائی کرے گا۔ام القری اخبار کے مطابق، یہ مرکز ضرورت پڑنے پر طبی اداروں کو تعاون فراہم کرے گا اور مختلف اداروں کے مابین ہم آہنگی پیدا کرے گا تاکہ مریضوں کو مناسب وقت اور جگہ پر علاج کی سہولت فراہم کی جا سکے۔ اس مقصد کے لیے وہ دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ اشتراک کرے گا۔یہ مرکز اعلیٰ طبی کمیٹی کے وہ فیصلے بھی نافذ کرے گا جنہیں وزیر کی منظوری حاصل ہو اور ان کے مطابق مریضوں کے علاج سے متعلق کارروائی کرے گا۔ یہ مرکز اندرون ملک اور بیرون ملک علاج سے متعلق جاری احکامات کی نگرانی بھی کرے گا، طبی اتاشیوں کی کارکردگی پر نظر رکھے گا اور ان کے کاموں کی پیروی کرے گا۔یہ مرکز صحت کے اداروں سے متعلق بستروں کے اعداد و شمار کی بھی نگرانی کرے گا تاکہ ان کی تعداد، استعمال کی مؤثریت، استعمال کا تناسب، ہر بستر کی گردش اور اوسط قیام کی مدت جیسے اہم پہلوؤں کا جائزہ لیا جا سکے۔علاوہ ازیں، مرکز اپنے دائرہ اختیار میں تحقیق اور مطالعات کی تیاری یا دیگر اداروں کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے معاونت کرے گا اور ان سے متعلق سفارشات مرتب کرے گا۔ وہ اپنی ذمے داریوں سے متعلق شعبوں میں سرمایہ کاری کے لیے موزوں ماحول فراہم کرے گا اور اس ضمن میں متعلقہ اداروں سے رابطہ و ہم آہنگی کرے گا۔اس کے ساتھ ساتھ یہ مرکز اعلیٰ طبی کمیٹی کے اُن فیصلوں کو عملی جامہ پہنائے گا جو وزیر کی منظوری کے بعد جاری کیے گئے ہوں۔ یہ سعودی عرب کے اندر اور باہر علاج سے متعلق تمام حکومتی احکامات پر عمل درآمد کی نگرانی کرے گا، نیز طبی مشنوں کی کارکردگی پر بھی مسلسل نظر رکھے گا۔












