اسلام آباد:پنجاب میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے صوبائی ادارے [پی ڈی ایم اے] کے مطابق دریائے راوی میں شاہدرہ کے مقام پر پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 79 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے جہاں انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے۔دریائے ستلج، راوی اور چناب میں تباہ کن سیلاب نے لاکھوں افراد کو گھروں سے بے دخل کر دیا ہے اور صوبہ پنجاب کا بڑا حصہ زیرِ آب آ گیا ہے، سیلاب سے بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا اور لاکھوں ایکڑ زرعی زمین برباد ہو گئی ہے۔تین سرحدی دریا شدید بارشوں اور بھارت کی جانب سے ڈیموں سے پانی چھوڑنے کے باعث غیر معمولی حد تک بھر گئے ہیں، جو بعد میں سرحد پار پاکستان میں داخل ہو رہا ہے۔یہ بحران پنجاب وسطی اضلاع کو متاثر کر رہا ہے، اب جنوبی پنجاب کے لیے بھی خطرہ بن گیا ہے کیونکہ آج چار دریاؤں کا پانی ایک ساتھ ملنے والا ہے۔لاہور سمیت پنجاب کے مختلف اضلاع میں دریاؤں میں طغیانی نے بڑے پیمانے پر تباہی کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق اب تک کم از کم 22 افراد جاں بحق اور متعدد لاپتا ہو چکے ہیں، جبکہ لاکھوں شہری متاثر ہوئے ہیں۔بھارت کی جانب سے اچانک دریائے راوی، چناب اور ستلج میں پانی چھوڑنے کے بعد بستیاں اور شہر زیر آب آ گئے۔ سیالکوٹ میں ایک ہی خاندان کے پانچ افراد، گجرات میں چار، نارووال میں تین، حافظ آباد میں دو اور گوجرانوالہ شہر میں ایک شخص جان کی بازی ہار گیا۔












