استنبول:ترکیہ نے کہا ہے اسرائیلی ریاست کے وزیر اعظم نیتن یاہو کو ایک سو سال سے زیادہ عرصہ پہلے کے سانحات کی آڑ میں چھپنے کی کوشش اس لیے کر رہے ہیں کہ وہ غزہ میں فلسطینیوں کی کی جانے والی نسل کشی سے دنیا کی توجہ ہٹا سکیں۔یہ بات ترکیہ کی وزارت خارجہ کی طرف سے بدھ کے نیتن یاہو کے انٹرویو پر اپنے ردعمل میں کہی گئی ہے۔ایسے وقت میں جب بین الاقوامی عدالت انصاف سے لے کر ہرفورم پر غزہ میں جاری فلسطینیوں کی نسل کشی کی مذمت ہو رہی ہے۔ نیتن یاہو نے 1915 میں سلطنت عثمانیہ کے ہاتھوں آرمینیائیؤں کی نسل کشی کا الزام لگا دیا ہے۔ترکیہ نے نسل کشی کے اس الزام کا دوٹوک مسترد کیا ہے۔ ترکیہ کی وزارت خارجہ نے کہا اسرائیلی ریاست اپنے جرائم پر پردہ ڈالنے کی کوشش میں ہے۔ حالاناکہ سب کے سامنے ہے کہ اسرائیلی ریاست غزہ مین نسل کشی کر رہی ہے۔ترکیہ نے مزید یاد دلایا کہ خود نیتن یاہو کو بین الاقوامی عدالت میں نسل کشی کے الزام میں ماخوذ ہیں۔ یاد رہے بین الاقوامی فوجداری عدالت نے تو نیتن یاہو کے وارنٹ بھی جاری کر رکھے ہی۔ ان کے ساتھ ان کے سابق وزیر دفاع یوو گیلنٹ بھی بین الاقوامی فوجداری عدالت کو مطلوب ہیں۔اس لیے ترکیہ کے مطابق اسرائیل کا غزہ میں نسل کشی کے لیے دیگر مہلک ہتھیاروں کے علاوہ بھوک کو بھی ایک ہتھیار کےطور پر فلسطینیوں کے خلاف استعمال کررہا ہے۔ایک پوڈ کاسٹ انٹرویو کے دوران انٹرویو کرنے والے نے نیتن یاہو کو آرمینیا کا کور دینے کی کوشش میں کہا اپ نے اج تک آرمینیا کی نسل کشی کو کیوں تسلیم نہیں کی ہے۔ اس پر نیتن یاہو نے کہا میں آج سے کرتا ہوں۔یاد رہے غزہ میں اسرائیلی ریاست کی فوج کے ہاتھوں کی جانے والی نسل کشی کے خلاف جنوبی افریقہ نے بین الاقوامی عدالت انصاف سے دسمبر 2023 میں رجوع کیا تھا۔ اس لیے عدالت میں یہ معاملہ زیر سماعت ہے۔












